کھٹڑ تاریخ کے آئینے میں    

Related image

   (حصہ اوّل)

تحریر ;   حبیب گوھر
پوسٹ ;  ایڈمن  (  کھٹڑ آف پاکستان  )

راولپنڈی سے اٹک جاتے ہوئے  سنگ جانی کراس کریں تو مارگلہ کے چوٹی پر جواں مرگ برطانوی بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کی ایک بلند و بالا یادگارسے نگاہیں ٹکراتی ہیں اور دھیان جان نکلسن سے ہوتا ہوا واہ کے کھٹڑ سرداروں کی طرف چلا جاتا ہے۔

واہ سنگ جانی سے باغ نیلاب کے درمیان پھیلی کھاٹری (ارضِ کھٹڑاں) کا مرکز ہے۔ کبھی اس کا نام جلال خان کھٹڑ کے نام پر” جلال سر” تھا۔ 1607 میں نورالدین جہانگیر نے یہاں سرسبز پہاڑیوں کے دامن میں شفاف چشموں کا جادوئی حسن دیکھ کر” واہ ” کہا اور یہی اس کا نام ٹھہرا۔

سکھوں اور انگریزوں کی پہلی جنگ میں چترسنگھ ہری پور سے حسن ابدال پہنچ گیا۔ نکلسن اٹک سے موضع واہ آیا اور سردار کرم خان کھٹڑ کے مزارعین اور متوسلین پرمشتمل فوج تیار کی۔پنڈی سے خالصہ فوج سکھوں کی مدد کے لیےنکلی۔ نکلسن رسد کاٹنے مارگلہ پہنچا اور سکھوں کے گھیرے میں آ گیا۔ سردار کرم خان کی بروقت مدد سے یہ جنونی گورا بچ گیا اور اگلے بارہ سال تک کالوں کی گردنیں مارتا رہا۔ کچھ دن بعد سردار کرم خان کو ان کے بھائی فتح خان نے قتل کر دیا۔

جنگِ آزادی 1857 میں نکلسن دہلی میں شدید زخمی ہوا۔ سردار کرم خان کے بیٹے کی 9 دن کی حیات بخش تیمارداری کے باوجود بے جان ہو گیا۔ لیکن تیماردار کو حیاتِ تازہ مل گئی۔ محمد حیات خان نواب بن گئے۔ بے شمارجاگیراور واہ گارڈنز ان کے حوالے ہوئے۔

محمد حیات خان نے ماہر انساب ملا سرور سے خاندانی شجرہ مرتب کروایا جس کے مطابق ان کے جد راجہ شیو دیال چوہان 750 عیسوی میں براستہ کشمیر باغ نیلاب آئے۔ چودھویں پشت میں راجہ کھٹڑ نے اسلام قبول کر لیا اور وہ کھٹڑ خان بن گئے۔نواب محمد حیات خان کے بیٹے سردار سکندر حیات ـــــــ نواب، پنجاب کے گورنر اور وزیراعلی بنے۔ 1942 میں وفات پائی تو علامہ اقبال کے مقابل دفن ہوئے۔

پوتے سردار شوکت حیات خان کی شوکت بھی قابل دید رہی ـــــــ اس دیدہ ور نے ”دی نیشن ہو لاسٹ ہز سول” لکھی۔ پہلی مرتبہ کھٹڑ تاریخ پر ایک کھٹڑ نے نظر ڈالی اور انہیں ” الکھٹڑ” جبرالٹر کو سر کرتا، راڈرک کو روندتا اور سپین میں فتح کے جھنڈے گاڑتا دکھائی دیا۔ سقوطِ غرناطہ کے بعد کھٹڑ یورپ، ترکی، ایران اور افغانستان چھوڑتے خیبر پختون خوا سے گزرتے، دریائے سندھ پار کرتے باغ نیلاب میں ڈیرے ڈالتے نظر آتے ہیں۔

عام طور پر کھٹڑ اپنا شجرہ نسب قطب شاہ کے بیٹے چوہان سے جوڑتے ہیں جو محمود غزنوی کا سپہ سالار تھا۔ اس نے دریائے سندھ کے دھانے قصبہ نیلاب پر قبضہ کیا۔ لیکن چوہان کی سولویں پشت میں کھٹڑ خان کے دور میں اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے اور افغانستان نکل گئے۔ 1175 میں کھٹڑ خان نے سلطان غوری کے ملازمت اختیار کر لی اور غوری کے حملہ ہندوستان کے وقت نیلاب پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

میں کہوٹہ میں کھٹڑوں کے محلے میں رہتا ہوں۔ جس کالج میں پڑھتا ہوں وہ علاقہ کھٹڑوں کی زد میں ہے۔ ان کی محبتوں کا اسیر بھی ہوں۔ کافی عرصے سے کوشش میں تھا کہ کھٹڑ تاریخ پر کچھ لکھا جائے۔ اس کے لیے کیپٹن (ر) محمد بنارس کھٹڑ صاحب کی کتابوں سمیت بے شمار مطالعہ کیا لیکن قلم اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے جتنے معتبر مورخین کوپڑھا انہوں نے کھٹڑ تاریخ کے حوالے سے اپنے عجز کا اظہار کیا ہے۔ عربی، خراسانی، ہندی ــــــــــ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔

کھٹڑوں میں دانشور مورخوں کی کمی نہیں رہی۔ اس دور میں بھی طارق علی موجود ہیں۔ لیکن اس لفٹسٹ کو اس موضوع سے شاید دلچسپی نہیں۔ ایسے میں ایک رائٹسٹ  قمر عبداللہ اس نیلاب میں اترے ہیں۔

(بقیہ حصہ ۔دوئم میں)

۔                        (ضروری نوٹ )
ھسٹری  کافی انتھک محنت سے لکھی گئی ہے تمام پیج ممبران اور فالوورز سے گزارش ھیکہ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد  زیادہ سے زیادہ شیئرز کریں خصوصی طور پر کھٹڑ فیملی کےممبران اس بات کا خیال رکھے ۔ حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ ۔