وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے سے روکا نہیں جا سکتا، آئینی و قانونی ماہرین

وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے سے روکا نہیں جا سکتا، آئینی و قانونی ماہرین

اسلام آباد : قانونی و آئینی ماہرین اور ریٹائرڈ ججوں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ اسپیکر کو سلیکٹڈ وزیراعظم کے الفاظ استعمال کرنے سے میڈیا کو روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، وہ ایسی کوئی رولنگ جاری نہیں کر سکتے، ان کی رولنگ آئین کے آرٹیکل19 کی خلاف ورزی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے میڈیا کو یہ زبانی رولنگ جاری کی تھی کہ وہ سلیکٹڈ وزیراعظم کا لفظ رپورٹ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ قومی اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر دیا گیا تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ قواعد و ضوابط کےمطابق

اسپیکر اندرون ایوان کنٹرول کا ذمہ دار ہوتا ہے، قومی اسمبلی کے باہر جو کچھ ہو، اس کے قابو میں نہیں ہوتا۔ وہ ایسی کوئی رولنگ نہیں دے سکتا کہ میڈیا کو کیا رپورٹ کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا کہ اسمبلی قواعد میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ اسپیکر میڈیا کو رپورٹنگ سے روک سکیں۔ کیا وہ لفظ سلیکٹڈ دنیا کی تمام لغات سے نکال سکتے ہیں؟ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ اسپیکر کو کسی بھی ایشو پر میڈیا کو رپورٹنگ سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے تاہم اگر انہوں نے کارروائی سے سلیکٹڈ کا لفظ حذف کر دیا ہے تو میڈیا اپنی رپورٹ میں بتا سکتا ہے کہ مذکورہ لفظ اسپیکر نے اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر دیا ہے لیکن میڈیا کو روکنے کا انہیں اختیار نہیں ہے۔ آئینی اور قانونی ماہر وسیم سجاد نے کہا کہ اسپیکر کو ایوان کی کارروائی کنٹرول کرنے کا اختیار ہے لیکن اسمبلی کے باہر کیا ہو رہا ہے، اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ میڈیا اس مخصوص لفظ کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ اسے ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ نے اسپیکر کی رولنگ کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اسپیکر آرٹیکل19 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، ان کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے تاہم میڈیا حقائق رپورٹ کر سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا لیکن اسپیکر نے یہ الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر دیئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ