
اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے پرودکشن آرڈر سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ہدایت کر دی ، معاملہ وزارت قانون کے سپرد کر دیا گیا۔وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 13 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو شیڈولڈ دورہ امریکہ کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔انہوں نے بتایا اس دورے کے دوران ان کیساتھ مختصر وفد امریکہ جائے گا جبکہ وہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے میں قیام کریں گے ۔ کوئی شاہ خرچی نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پروڈکشن آرڈر کے قانون میں ترمیم کی جائے ۔ ارکان اسمبلی پروڈکشن آرڈر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈر نہیں ہونے چاہئیں۔ ایسے مجرموں کو جیلوں میں سیاسی قیدی کا پروٹوکول نہ دیا جائے ۔وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ وزارت قانون کے سپرد کردیا۔ وزیراعظم نے کہا رانا ثناء اﷲ کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں، ان کی گرفتاری سیاسی نہیں قانونی معاملہ ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا ملکی ہوائی اڈوں پر تارکین وطن کیساتھ عزت واحترام سے پیش آیا جائے اور انہیں جنگی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ وفاقی کابینہ نے حج پالیسی اینڈ پلان 2019 کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے سعودی عرب کی جانب سے موصول ہونے والے تقریباً 6 ہزار عازمین حج کے کوٹے کی قرعہ اندازی کرنے کی منظوری بھی دیدی۔بعدازاں معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حج پالیسی 2019عوام کے مفاد میں بنائی گئی ۔ پہلی بار اسلام آباد ایئر پورٹ سے حج کی امیگریشن ہوگی۔ پہلی حج فلائٹ کا وزیر اعظم افتتاح کریں گے ۔ حج کو سکینڈل فری بنانا ہمارا فرض ہے ۔وفاقی کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی منظوری د یدی ہے ۔ زبیر گیلانی کو سرمایہ کاری بورڈ کا چیئرمین جبکہ شاہ جہاں مرزا کو ایم ڈی نجکاری کمیشن مقرر کیا گیا ہے ۔کابینہ نے کالا دھن ختم کرنے کیلئے 40ہزار کا بانڈ ختم کرنے کی منظوری دیدی ۔کہیں بھی بانڈ نکلتا تو گھوم گھما کے اپوزیشن کے نام نکلتا تھا ۔کئی سیاستدانوں پر بانڈز عاشق ہوتے تھے ، انہیں بتانا ہوگا کس ذرائع آمدن سے یہ بانڈز خریدے ۔ اب پرائز بانڈز کا پیسہ اکائونٹس میں آئے گا۔پاکستان سٹیل ملز کو پرائیویٹائز نہیں کریں گے بلکہ اس کو نجی شراکت داری سے چلایا جائے گا۔ بیروزگاری کم کرنے کیلئے وزیر اعظم نے وزارت داخلہ کو پالیسی لانے کی ہدایت کی ہے ۔ ملک کو معاشی طور پر تباہ کرنے والے سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کے گیلریوں میں خوش گپیوں کیلئے پروڈکشن آرڈر نہیں جاری ہونے چاہئیں ۔ نوازشریف دل چھوٹا نہ کریں، بائیس کروڑ عوام کے ساتھ کھیل کھیل کروہ آج جیل پہنچے ہیں ،وہ اپنے باقی ساتھیوں کو ہدایت کریں کہ وہ احتیاط سے کام لیں ۔حکومت سیاسی مخالفین کے ساتھ سیاست کے میدان میں پنجہ آزمائی کرنا چاہتی ہے ۔ قوم نے دیکھ لیا پروڈکشن آرڈر کے ذریعے پارلیمنٹ آکر شہباز شریف ، آصف زرداری اور سعد رفیق نے بجٹ میں کیا مثبت تجاویز دیں ۔ فردوس عاشق اعوان نے بتایا وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا مشکل مالی حالات میں حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ۔ ماضی کی بدانتظامیوں اور کرپشن کی وجہ سے آج عوام کو مشکل مالی حالات کا سامنا ہے ۔ حکومت نے ملک و عوام کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کیے ہیں ۔ یہ مشکل فیصلے وقت کی ضرورت تھے تاہم یہ وقت گزر جائے گا۔ مجرموں کیساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہوسکتی ۔ مجرموں کی کوشش ہے کسی طرح ان کو این آر اوحاصل ہو جائے ۔جن لوگوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ان کو ڈیموکریٹ نہ سمجھیں۔ لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ چوروں اور ڈاکوئوں کیخلاف دیا تھا۔ کوئی چور اور ڈاکو میرا ساتھی نہیں ۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی کہ پچھلے دو ادوار میں سابقہ حکمرانوں کے بیرون ملک دوروں کے اخراجات، میڈیکل اخراجات اور کیمپ آفسز پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل کابینہ کو پیش کی جائے ۔ وزیرِ اعظم نے کہابے نامی جائیدادوں کے قانون کے حوالے سے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے ۔ آج سے سیاستدانوں کی بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ کابینہ کی جانب سے اسلام آباد کیپٹل کیلئے سینئر سٹیزن بل 2019کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ اس قانون کے تحت سینئر سٹیزن کونسل تشکیل دی جائے گی اور اولڈ ایج ہومز قائم کیے جائیں گے ۔کابینہ نے شمالی کوریا کے شہریوں کیلئے پاکستانی ویزوں کے حوالے سے طریقہ کار کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے اسلام آباد ایچ سولہ سیکٹر میں ماڈل جیل کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا معاملہ تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و دیگر کی صوبوں سے وفاقی حکومت کو منتقلی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اورعدالت کو وفاقی حکومت کی مالی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا۔کابینہ کو توانائی کے شعبے میں ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کے تین سال کے سپیشل آڈٹ کا حکم دیدیا جبکہ سی ڈی اے کو اسلام آباد کا نیا ماسٹر پلان تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے



