
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ جمہوریت کی ترقی نہیں، تنزلی ہے،ہم کہتے ہیں یہ جمہوریت کی جیت ہے کہ پارلیمنٹ چل رہی ہے۔
پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ سلیکٹیڈ وزیراعظم عمران خان میں ملک چلانے کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں ہے۔
ہم نے قبائلی اضلاع کا بجٹ 500گنا بڑھایا تھا، سی پیک کو پختونخوا اور قبائلی اضلاع سے گزارنا تھا وہ قدم اب نہیں اٹھایا جارہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں یہ جمہوریت کی جیت ہے کہ پارلیمنٹ چل رہی ہے،ہم چاہتے ہیں آواز اٹھائیں اور عوام کےمسائل حل کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج میڈیا کے پاس آزادی نہیں،پارلیمنٹ اور جمہوریت میں وہ طاقت نہیں۔
پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ حکومت،حکومت کرنے کے بجائے اپوزیشن کی سیاست کر رہی ہے،اگر حکومت ایسا کرے گی تو اپوزیشن کیا کرےگی؟
انہوں نے کہا کہ آج کمزور ہی سہی پارلیمانی نظام تو ہے،ہمیں سوچنا چاہیے کہ خان صاحب کو سلیکٹڈ وزیراعظم بننے کےلئے کیا کیا قربانی دینا پڑی۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے آپس میں لڑ رہے ہیں،جیسے ہم نے مشرف اور ضیا کے دور میں جمہوریت کے لیے جہدوجہد کی،ویسی ہی جدوجہد کرتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج وہ سیاہ دن ہے جب جنرل ضیاء نے پہلے منتخب وزیراعظم کو حکومت سے نکال کر گرفتار کیا اور اپنی آمریت قائم کی۔
پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں، وزیراعظم جھوٹ بول کر ترمیم کے خلاف بیان دے رہے ہیں، اس ترمیم کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کی جارہی ہیں لیکن ہم اپنے نظریاتی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن متحد ہے،مل کر چیئرمین سینیٹ منتخب کر سکتے ہیں، مشاورت کے ساتھ سینیٹ کا چیئرمین لائیں گے۔
ا




