پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کے لئے تیار ہیں،امریکا،پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے تجارت کے وسیع مواقع ہیں،ٹرمپ عمران ملاقات

عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات، امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ..

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے ،پاک بھارت کشیدہ تعلقات میں بہتری میں کوئی تعاون کر سکتا ہوں تو ثالثی کا کر دار ادا کرونگا، امریکی خطے میں پولیس مین نہیں بننا چاہتا ،امریکاپاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرہا ہے،امریکا، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں،ایرانکے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے جبکہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے ، امید ہے  آنے والے دنوں میں طالبان کو مذاکرات کیلئے تیار کر پائیں گے۔پیر کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا بعدازاں میڈیا کو ہاتھ ہلاکر ملاقات کے لیے چلے گئے،پہلے دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔

بعد ازاں یہاں وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات ، افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سےپاکستان کی کوششوں ، خطے کی صورتحال سمیت مختلف امور زیر غور آئے ۔

ملاقات کے آغاز میں میڈیا کی موجودگی میں مختصر گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔اوول آفس میں ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کے لیے امریکا، پاکستان کے ساتھ کام کررہا ہے اور امریکا خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بڑی مدد کررہا ہے۔ افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان درینہ مسئلہ کشمیر پر بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اگر میں کوئی تعاون کرسکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارتتعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ امریکی صدرٹرمپ نے کہا کہ امریکا، پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے اور تجارت کے وسیع مواقع ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ افغانستان کا واحد حل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہے اور مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ‘ہم طالبان کومذاکرات کے لیے تیار کر پائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایرانکے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہم طالبان کو مذاکرات کے لیے زور دے پائیں گے

ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستانکے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔

امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ اس معاملے میں پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے۔ پاکستان امریکا کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، پاکستان افغان عمل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ افغان مسئلے کے حل کیلئے معاونت فراہم کرنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جو امداد بند کر دی تھی وہ بھی بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی تھی کہ وہ امریکا کی مدد نہیں کر رہا تھا، یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔ افغان کی جنگ چاہتے تو ایک ہفتے میں جیت سکتے تھے، تاہم وزیراعظم عمران خان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔پاکستان افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے قتل عام کو روک سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ کا بات چیت کے ذریعے خاتمہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس دوران امریکی صدر سے کہا کہ امریکاپاکستان کیلئے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات مزید بہتر ہوں، اور تجارتی تعلقات بھی فروغ پائیں۔

وزیراعظم نے امریکا سے امداد کے حصول کی بجائے تجارتی تعلقات کے فروغ کا مطالبہ کر دیا،عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات مزید بہتر ہوں، اور تجارتی تعلقات بھی فروغ پائیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر سے کہا کہ امریکا پاکستان کیلئے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات مزید بہتر ہوں، اور تجارتی تعلقات بھی فروغ پائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امداد کے حصول کی بجائے امریکا کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔

۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خانکی امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان کا وژن لے کر امریکا آئے ہیں، عمران خانپاک امریکا تعلقات کا نیا دور شروع کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خطے میں امن اور خوشحالی کا بیانیہ لے کر امریکا آئے ہیں۔