
اسلام آباد:سینٹ کا اجلاس نزدیک آتے ہی اپوزیشن چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک کو کامیا ب بنانے کے لئے ایک بار پھر متحرک ہو گئی ہے اور پیپلز پارٹی جو صادق سنجرانی کو چئیرمین سینٹ بنانے کے گناہ میں ملوث تھی اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اپوزیشن سینٹرز کو ایک بار پھر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق
پیپلزپارٹی کی سینٹر شیری رحمن نے ا پوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کوٹیلی فون کرکے اپوزیشن سینیٹرز کو ایک بار پھر اکٹھا کرنے کی تجویز پیش کردی ، رہنمائوں کے درمیان اس اہم رابطہ میں طے پایا کہ حکومت کی چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پراپوزیشن جماعتوں سے الگ الگ رابطوں سے پیدا ہونے والی فضا کو زائل کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ موقف کو مزید مضبوط کیا جائے گا، (ن) لیگ سے باضابطہ رابطہ کرنے کے بعد پی پی نے اپوزیشن سینٹرز سے رابطے شروع کردئیے ہیں اور آج پھر تمام اپوزیشن کے سینٹرز کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائیگی ،ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ جب حکومتی عہدیدار ان رابطہ کریں تو ان کے سامنے یکساں موقف پیش کیا جائے اور حکومت کو یہ احساس دلایا جائے تمام اپوزیشن جماعتوں سے الگ الگ رابطہ کرنے کے بجائے اپوزیشن سے مشترکہ طو ر پر رابطہ کیا جائے ،ذرائع نے مزید بتایا کہ آ ج کے اپوزیشن کے ممکنہ اجتماع میں پریذائیڈنگ آفیسر کا معاملہ بھی زیر غور آئیگا اور آئندہ کی حکمت عملی مرتب کی جائیگی ، پی پی آج اپوزیشن سینٹرز کو نجی ہوٹل میں جمع کرنا چاہتی ہے جہاں اپوزیشن سینٹرزکی چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر انکی پالیسی پر رائے لی جائے گی ۔



