
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست شارجہ میں لفٹ آپریٹر کی ملازمت کرنے والے پاکستانی نوجوان نے برطانیہ کی امیر خاتون کو گم شدہ ’کتا‘ ڈھونڈ کر دینے کے بعد ان کا دل جیت لیا۔
پاکستانی نوجوان 35 سالہ عابد یاسین نے برطانوی خاتون کا چند دن قبل شارجہ میں گم ہونے والا کتا ڈھونڈ کر نہ ٓصرف خاتون کا دل جیتا بلکہ انہوں نے خاتون کی جانب سے انعام کی پیش کش بھی مسترد کردی۔
گلف نیوز کے مطابق برطانوی خاتون لزا اسکائے کا 3 سالہ کتا ’بڈی‘ رواں ماہ 22 اگست کو شارجہ کے معروف علاقے الجبیر سے ان کے گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا۔
کتے کے لاپتہ ہونے کے بعد خاتون اور ان کے اہل خانہ نے کتے کی تلاش کے لیے شہر بھر میں اشتہارات چسپاں کیے تھے جب کہ ’گلف نیوز‘ سمیت دیگر ویب سائٹس نے کتے کے لاپتہ ہونے پر خبریں بھی شائع کی تھیں۔
برطانوی خاتون کا یہ کتا اس وقت لاپتہ ہوا جب وہ اپنے بچوں سمیت ایک دن قبل ہی شارجہ منتقل ہوئی تھیں اور اگلے دن گھر کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے کتا گھر سے نکل گیا۔

کتے کو شارجہ کے مرکزی مارکیٹ سے تلاش کرنے والے پاکستانی نوجوان نے کتے کو دیکھتے ہی متعلقہ خاتون کو فون کیا اور بتایا کہ ان کا کتا مل گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے پاکستانی نوجوان سے کتے کی تصاویر بھیجنے کا کہا، جس کے بعد نوجوان نے تصاویر بھیجیں تو خاتون نے تصدیق کی کہ یہ ان کا ہی کتا ہے۔
پاکستانی نوجوان نے بتایا کہ انہوں نے کتے کے لاپتہ ہونے سے متعلق ایک دن قبل ہی خبر پڑھی تھی اور جب وہ مارکیٹ پہنچے تو ان کی خبر ایک نڈھال کتے پر پڑی، جب انہوں نے اسے غور سے دیکھا تو یہ وہی کتا تھا جس کے لاپتہ ہونے کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی نوجوان نے خاتون کو ان کا گم ہونے والا کتا گھر پہنچایا تو ان کی خوشی دگنی ہوگئی اور انہوں نے پاکستانی نوجوان کو مسیحا اور فرشتہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی خاتون نے پاکستانی نوجوان کو کتا ڈھونڈ کر لانے کے عوض 2 ہزار درہم کے انعام کی پیش کش بھی کی، تاہم پاکستانی نوجوان نے رقم لینے سے انکار کردیا۔
پاکستانی نوجوان کو برطانوی خاتون نے ان کی ماہانہ تنخواہ سے فقط ایک ہزار درہم کم انعام دینے کی پیش کش کی جو انہوں نے مسترد کی۔
پاکستان نوجوان ماہانہ 3 ہزار درہم پر ایک آپریٹر کے طور پر ملازمت کرتا ہے جب کہ برطانوی خاتون کے شوہر مقامی اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں اور وہ اپنے 2 بچوں سمیت وہاں رہائش پذیر ہیں۔




