
سری نگر: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے، یہ تعداد وادی میں جاری کریک ڈاؤن کی سنگین صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خبررساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت نے 6 ستمبر کو اعداد و شمار جاری کیے جن کے مطابق 3 ہزار800 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم اس میں 2 ہزار 600 افراد رہا کیے جاچکے ہیں۔
ادھر یہ واضح نہیں کہ زیادہ تر افراد کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا البتہ ایک بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ کچھ کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پبلک سیفٹی ایکٹ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں نافذ ایسا قانون ہے جس کے تحت بغیر کسی الزام کے کسی بھی شخص کو 2 سال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔
جاری کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی جارہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کن افراد کو کس جگہ سے اٹھایا گیا۔
خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 200 سیاستدان گرفتار ہیں، جس میں 100 سے زائد سیاستدانوں کا تعلق بھارت مخالف جماعتوں سے ہے۔
ان 3 ہزار سے زائد گرفتار افراد کو پتھراؤ کرنے اور دیگر شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث قرار دیا گیا جبکہ اتوار کے روز 85 گرفتار افراد کو بھارت کی شمالی ریاست آگرہ کی جیل میں منتقل کیا گیا۔
اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ یہ کریک ڈاؤن مقبوضہ وادی کی حالیہ تاریخ کی ’واضح اور بے مثال‘ کارروائی ہے اور ان گرفتاریوں سے بڑے پیمانے پر خوف ہراس پھیلا ہے۔
مقبوضہ وادی کے 13 پولیس اسٹیشنز سے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف سری نگر میں قریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب زیرِ حراست افراد میں 80 سے زائد افراد کا تعلق پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے جو وادی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق اتحادی تھی۔
اسی طرح تقریباً 70 گرفتار افراد کا تعلق نیشنل کانفرنس سے ہے جو دہائیوں سے مقبوضہ وادی کی سیاست پر چھائی ہوئی ہے اور ایک درجن سے زائد افراد بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں پولیس نے بھارتی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں سے تعلق کے الزام میں 150 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔
اس ضمن میں ایک بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق اب بھی 12سو سے زائد افراد گرفتار ہیں، جس میں اعلیٰ سیاسی قائدین بھی شامل ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔




