بدلتے حالات ،وزیراعظم کا معاشی پیکج یاسیاسی پیکج

رفعت عباسی سئنیر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن ڈسٹرکٹ راولپنڈی

بدلتے حالات اور وقت صاحبِ اقتدار لوگوں کے لب و لہجے اور فیصلے کیسے بدل کر رکھ دیتے ہیں
اس کا عملی مظاہرہ دیکھنا ہو تو ملکی سیاست میں روز بروز بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی صفحوں میں پائی جانے والی بے چینی اور فیصلوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔
تبدیلی سرکار صرِف چند دن پہلے تک ملک میں بڑھتی مہنگائی کو ایک عالمی مسئلہ قرار دے رہی تھی کپتان اور اِن کے تمام کھلاڑی وہ وزراء ہو مشیر ہو یا پھر معاونینِ خصوصی سب کے سب یک زبان ہوکر یہ کہتے نظر آتے تھے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہے ۔پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے دوسری تمام اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں پٹرول کی قیمتیں ابھی مزید بڑھیں گی اور عوام کو مزید کچھ عرصے تک مہنگائی میں اضافہ برداشت کرنا پڑے گا پھر یکا یک ایسا کیا ہوا کے وزیراعظم کے دل میں عوام کا ایسا درد جاگا کہ عالمی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف کی ممکنہ ناراضی کو بھی پسِ پشت ڈال دیا
معاشی ماہرین حیران ہے کہ وہ حکومت جو آئی ایم ایف کے مطالبے پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی تھی اور وہ حکومت جس کے وزیرِ خزانہ مہنگائی کی شرح 12 فیصد بڑھنے کے باوجود پاکستان کو سستا ترین ملک قرار دے رہے تھے ۔اسِی حکومت کے وزیر اعظم نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے کئی اہم اعلانات کئے ہیں ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں پہلی بار اپوزیشن کی نہایت غیر معمولی اور متحرک سرگرمیوں نے وزیراعظم کو پریشانی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت ان کے وہ حالیہ فیصلے ہیں جنہیں بآسانی عوام کو خوش کرنے کی تدبیر قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ فیصلے ان کے اور اِن کے وزراء کے ماضی قریب کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتے۔سبسڈی کے حوالے سے حکومتی موقف صاف ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کو سبسڈی پر چلا کر معیشت تباہ کی اور اگر موجودہ دورِ حکومت میں آئی – ایم- ایف کے کہنے پر سبسڈی ختم کی جا رہی ہے تو یہ ملکی مفاد میں ہے لیکن اب وزیراعظم نے خود پٹرول اور بجلی پر سبسڈی دے کر اِس معاشی ویژن پر بھی یوٹرن لے لیا ہے۔
وزیراعظم ماضی میں ایمنسٹی کے خلاف رہے ہیں لیکن اب صنعت کا لوگوں کو بغیر ذرائع آمدن بتائے مزید فیکٹریا ں لگانے کی ترغیب دے کر تعمیراتی شعبے کے بعد صنعتی شعبے کو ایمنسٹی پلس دے رہے ہیں ماضی میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جب کبھی وزرئےِ اعظم مشکل میں آئے اور انہیں اپنی حکومت جاتی ہوئی محسوس ہوئی تو انہوں نے عوام کو خوش کرنے کے لیے ( پاپولر ) فیصلے کرنے کی کوشش کی ۔70 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لبرل ہوتے ہوئے بھی اتوار کے بجائے جمعے کی ہفتہ وار چھٹی اور شراب پر پابندی جیسے اقدامات کیے انہوں نے اِن فیصلوں سے عوام کو خوش کرنے اور اپوزیشن تحریک کے توڑنے کی کوشش کی۔ سابق صدر اور سابق آرمی چیف پرویز مشرف عوامی جذبات سے اتنے مرغوب ہوئے کہ لال مسجد کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر بیٹھے جس نے ان کے زوال کی راہ ہموار کردی ۔
کِسی نے سچ کہا ہے کہ اقتدار سے دوری کا ڈر سیاستدانوں کے لئے سب سے بڑا خوف ہوتا ہے اگرچہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس معاشی پیکیج سے مشکل معاشی صورتحال کا سامنا کرنے والے عوام کو وقتی ریلیف ملے گا لیکن سوال ضرور اٹھ رہے ہیں اور یہ سوال پوچھنے والے حق بجانب ہیں کہ اگر حکومت کے پاس اتنی کیپسٹی تھی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کر سکے تو یہ فیصلہ پہلے کیوں نہیں کر لیا گیا ؟
حکومت چاہے جو بھی جواز پیش کرے لیکن موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیے جانے والے اس حکومتی پیکج کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنے سے زیادہ حکومت کو بچانے کی ایک کمزور سی کوشش لگتا ہے ۔اِسے یو کہنا درست ہوگا کہ یہ ( معاشی پیکیج ) سے زیادہ ( سیاسی پیکج ) ہے ۔ معاشی ماہرین اِس پیکج کو ایسا شارٹ ٹرم ریلیف سمجھتے ہیں جو وقتی طور پر تو شاید عوام کو فائدے مند ہوں لیکن ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں آنے والے دنوں میں عوام پر کئی گناہ زیادہ معاشی بوجھ ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے۔
معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی اور بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کمی سے ملکی خزانے پر تقریبا 300 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا اب حکومت اِس بوجھ کو پورا کرنے کیلیے مزید قرضے لے گی ؟ نئے نوٹ چھاپیگی ؟ یا پھر بلاواسطہ طور پر مزید کوئی ٹیکس لگائے جائیں گے
اِس بات کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن یہ بات ہے طے ہے کے حکومت اور عوام دونوں کو یہ بوجھ اٹھانا ہی پڑے گا ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر یہ کارڈ کھیلا ہے۔
اگر تو یہ پیکج دیے جانے کے باوجود تحریکِ عدم ِ اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریکِ انصاف اور زیراعظم عمران خان کے پاس آئندہ سیاست کیلئے ایشو آجائے گا کہ دیکھے ہم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنا شروع کیا ہی تھا کہ اپوزیشن نے ہمارے خلاف سازش کر کے حکومت ختم کر دی لیکن اگر تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو جاتی ہے تو حکومت آئی ایم ایف سے وعدے کے مطابق اسی طرح قیمتیں بڑھانا شروع کر دے گی جیسے پہلے بڑھا رہی تھی۔
سیاست میں اقتدار جانے کا خوف سب سے بڑا خوف ہوتا ہے اقتدار قائم رکھنے کے لیے حکمران سب حدیں پار کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اِن کے نزدیک سب سے اہم اقتدار کی کرسی کا قائم رہنا ہوتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کیا اپوزیشن کی جانب سے ڈالے گئے پریشر میں آگئے ہیں یا ان کو واقِعی عوام کی حالت پر رحم آ گیا ہے ؟
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے کمی اور ساتھ میں بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کی کمی کیا یہ بھی ایک سیاسی سٹنٹ ہے یا عوامی ہمدردی ؟ اس بات کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا۔