پاکستان سے جاکر جہاد کشمیریوں کیساتھ ظلم ہوگا،طالبان امریکہ بات چیت بحالی کی کوشش کریں گے۔ وزرائ اور سیکرٹریز قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں، وزیراعظم

Image result for Imran Khan pic

وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھر واضح کیا ہے کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا آرٹیکل ختم نہیں کرتا تب تک اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی ،پاکستان سے جاکر کشمیر میں جہاد کشمیریوں پر ظلم ہوگا۔ب طورخم سرحد پر نئے ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم نے گھوٹکی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور مظاہروں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا گھوٹکی میں پیش آنے والا واقعہ جنرل اسمبلی اجلاس میں ان کی تقریر کو سبوتاژکرنے کی سازش ہے ۔بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پر انتہاپسندوں نے قبضہ کرلیا کیونکہ ایسے ذہن کے لوگ ہی کسی علاقے کو اتنے دنوں تک بند کرسکتا ہے ۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر باور کرایا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا آرٹیکل ختم نہیں کرتا تب تک اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا میں اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ میں اس طرح کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو اس وقت کشمیر میں بہانہ چاہئے ، وہاں اس نے 9 لاکھ فوج جمع کی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف ہے ، جو ان کے ساتھ تھے ، اب وہ بھی بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، عالمی فورم پر دہائیوں بعد بات ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور اس کی رہی سہی کسر میں اقوام متحدہ میں پوری کردوں گا۔اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ صرف این آر او دے دیں، مشرف نے جن دونوں لیڈروں کو این آر او دیا، وہ آج جیل میں ہیں، ہمیں اس دور کے کیسز پر بلیک میل کیا جارہاہے جو دونوں نے ایک دوسرے پر بنائے ۔وزیر اعظم نے کہا بدقسمتی سے جس اپوزیشن کا نظریہ نہ ہو، وہاں جمہوریت صحیح معنوں میں چلتی نہیں، اگر آج احتساب نہ کیا تو یہ ملک ہی نہیں چلنے دیں گے ، قبل ازیں وزیراعظم نے طورخم سرحد کو باقاعدہ طور پر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی سروس کیلئے ٹرمینل کا افتتاح کیا۔اپنے خطاب میں طورخم سرحد پر 24 گھنٹے سروس پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا اس سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ خطے میں تبدیلی آئے گی۔طالبان اور امریکہ مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا افغان امن عمل کیلئے ہم سے جو سکتا تھا، ہم نے کیا، ان کی ملاقاتیں کرائیں، طالبان قیادت کو قطر پہنچایا جس کا اعتراف خود امریکہ بھی کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ بات چیت کہاں تک پہنچی کیونکہ پاکستان نے کبھی مذاکرات میں شرکت نہیں کی ، اگر ہمیں معلوم ہوتا مسائل کہاں آرہے ہیں تو شاید پاکستان مزید کوشش کرتا۔وزیراعظم نے کہا نیویارک میں امریکی صدر سے ملاقات کے دوران انہیں بات چیت آگے بڑھانے پر آمادہ کریں گے ،بات چیت کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے زور لگائیں گے ۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بھی موجود تھے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے ’’ایزی فیبریکیٹڈ ہومز پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا عوام کو سستے گھروں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، پہلے سے تیار شدہ گھروں سے عوام کو کم وقت میں اپنا گھر میسر ہوگا ۔وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے قائمہ کمیٹیوں میں وزراء اور سیکرٹریز کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا وزراء اوروزارت کے اعلیٰ حکام قائمہ کمیٹیوں میں شرکت یقینی بنائیں۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کے سامنے وزراء کی کمیٹیوں سے غیر حاضری کا معاملہ اٹھایا تھا۔وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ملے ۔وزیر اعظم آفس کے مطابق ملاقات میں ملکی سلامتی سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔اس موقع پروزیراعظم کے دورہ سعودی عرب اور امریکہ کے حوالے سے امور زیر غور آئے جبکہ وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی، اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے ۔دریں اثناء وزیراعظم نے سویڈن کے وزیراعظم اسٹیفن لوف وِن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ۔وزیر اعظم آفس کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے پیدا شدہ سنگین صورتحال کو نمایاں کرتے ہوئے کہا بین الاقوامی برادری بھارت پر بین الاقوامی انسانی حقوق معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ وزیراعظم نے افغان صدراشرف غنی کو بھی ٹیلی فون کیا اورانکی خیریت دریافت کی۔وزیراعظم نے منگل کوہونے والے 2 حملوں میں درجنوں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا۔