ایم ایل ون پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا، 8.2 ارب ڈالر کا بڑا منصوبہ ہے جو  سی پیک کے تحت مکمل ہو گا،  خسرو بختیار

Image result for cpec ML one project pic

اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ایم ایل ون 8.2 ارب ڈالر کا بڑا منصوبہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مکمل کیا جائے گا اس منصوبہ سے  کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ فی گھنٹہ رفتار بڑھے گی۔ ایک خصوصی انٹرویو میں  انہوں نے  کہاکہ ایم ایل ون کا فریم ورک اگریمنٹ 2014ء میں طے ہوا اگر حکومت کو کوئی منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر لینا چاہیے تھا تو وہ ایم ایل ون کا منصوبہ تھا جو ہر لحاظ سے پاکستان کی اولین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 8.2 بلین ڈالر ہے۔ حکومت سنبھالتے ہی کوشش تھی کہ اس منصوبے کو بی او ٹی کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے تاکہ اسکا قرضہ اور واجبات حکومت کو نہ اٹھانے پڑیں۔ مخدوم خسرو بختیار نے کہاکہ ایم ایل ون پر چینی حکومتی نمائندوں سے گفتگو جاری ہے اور اسے ای پی سی موڈ میں ہی لے کر چلایا جائے گا۔ وزیراعظم نے سی پیک منصوبوں پر جائزہ اجلاس کیاجس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایم ایل ون پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے گا۔ ایم ایل ون 8.2 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے۔اس میں ہمیں اپنے ریلوے کے نظام کی استعداد کار کو مد نظر رکھنا ہو گا۔ ایم ایل ون کے پی سی ون کی منظوری سے پہلے اسکی عالمی سطح کے کنسلٹنٹ سے جانچ پڑتال کروانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کی فنانسنگ  کے لیے چین سے بات چیت بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ایم ایل ون منصوبے کے ساتھ ریلوے کے نظام کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جائے تاکہ ریلوے اسکی مانیٹرنگ بھی کر سکے اور اس نظام کو کامیابی کے ساتھ تکمیل کی طرف لے کر جائے۔