چین سی پیک کے تحت تعمیر ہونے والے سب سے بڑے منصوبے ملتان سکھر موٹروے کے شاندار افتتاح کا خواہاں

چین نے سی پیک کا وہ واحد منصوبہ جس کے فقید المثال افتتاح کی خواہش کا ..

چین سی پیک کے تحت تعمیر کی جانے والی پاکستان کی سب سے بڑی 392 کلومیٹر طویل ملتان سکھر موٹروے اور ایم ایل ون ریلوے منصوبوں کے شاندار افتتاح کا خواہاں ۔ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستانی حکومت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ چینی حکام چاہتے ہیں کہ ملتان سکھر موٹروے اور ایم ایل ون ریلوے منصوبوں کا فقید المثال افتتاح کیا جائے۔ واضح رہے کہ ملتان سے سکھر موٹر وے ایم 5 کو یکم اکتوبر سے عام ٹریفک کیلئے کھول دیے جانے کا امکان ہے۔

منصوبے کا بنیادی تعمیراتی کام چند ہفتے قبل ہی مکمل کر لیا گیا تھا، جبکہ اب منصوبے کی آرائش، انٹر چینجز اور عارضی قیام گاہوں کی تعمیرات کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

اس منصوبے کو وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے بہترین تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 392 کلو میٹر طویل موٹر وے ایم 5 پر تقریباً 294 ارب روپے  لاگت آئی ہے۔یہ موٹر وے ملتان سے شروع ہو کر شجاع آباد، جلالپور پیر والہ، ہیڈ پنجند، بہاول پور کے قریب اچ شریف، احمد پور شرقیہ، رحیم یار خان، صادق آباد، سندھ کے شہر اوباڑو، گھوٹکی اور پنوعاقل سے ہوتی ہوئی سکھر میں روہڑی کے قریب اختتام پذیر ہو رہی ہے۔اس سے آگے سکھر سے حیدرآباد تک ایم 6 موٹر وے کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ امکان ہے کہ ایم 6 موٹروے کی تعمیر کا کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔ موٹر وے ایم 5 پر بہاولپور کے قریب دریائے ستلج کے ایک بڑے برج سمیت مجموعی طور پر 54 پل، 12 سروس ایریاز، 10 ریسٹ ایریا، 11 انٹرچینجز، 10 فلائی اوورز اور 426 انڈرپاسز تعمیر کیے گئے۔ جی ٹی روڈ کے مقابلے میں اگر موٹر وے ایم 5 پر ملتان سے سکھر تک کا سفر کیا جائے تو فاصلہ 75 کلو میٹر کم ہے۔جبکہ سکھر ملتان موٹروے پر بغیر رکے مسلسل سفر کریں تو 6 گھنٹے کا سفر کم ہو کر 3 سے ساڑھے 3 گھنٹے رہ جائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے اس اہم منصوبے پر کام کا افتتاح 6 مئی 2016 کو کیا گیا تھا۔ جبکہ اب یہ منصوبہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔  میں ملتان سے سکھر تک موٹروے کو عام ٹریفک کیلئے کھول دیا جائے گا۔ منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی گئی ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ سی پیک کے تحت تعمیر کیے جانے والی موٹروے کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔