پاک چین روابط میں فروغ کے لئے چین نے لاہور میں ویزہ سینٹر کھول دیا

Related image

اسلام آباد :چینی سفارتخانے نے چین اور پاکستان کے شہریوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کیلئے پاکستان میں ویزہ سروسز میں مزید توسیع کر دی ہے اس سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چین نے لاہور میں اپنا ویزہ سروس سینٹر کھول دیا ہے جس کا مقصد درخواست گزاروں کو چینی ویزہ حاصل کرنے کیلئے سہولتیں فراہم کرناہے،پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے اس سینٹر کا افتتاح کیا،افتتاحی تقریب میں پنجاب حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں،لاہور میں چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن، ڈپٹی قونصل جنرل پینگ زینگ وو اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی،چائنہ اکنامک نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی قونصل جنرل لاہور پینک زینگ وو نے کہا کہ لاہور میں ویزہ سینٹر کا افتتاح مقامی افراد کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ایک بڑا اقدام ہے اس سے قبل لاہور کے عوام کو چینی ویزہ حاصل کرنے کیلئے اسلام آباد جانا پڑتا تھا جس کے باعث ان کا کافی وقت صرف اور اخراجات آتے تھے یہ کاروباری اور لاہور میں رہنے والے دیگر افراد کیلئے ایک بہت بڑی سہولت ہے لاہور ایک اہم شہر ہے اور صوبہ پنجاب کی معاشی سرگرمیوں کا نیا مرکز ہے انہوں نے مزید کہا کہ ویزہ کی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ کئی مہینوں سے شروع کیاگیا تھا اور ا ب یہ بہت اچھے انداز میں مکمل ہو گیا ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان رابطے کی سہولت ، انہیں زیادہ آرام دہ ماحول فراہم کرنے اور انہیں کافی خدمات کیلئے لاہور ویزہ سینٹر شروع کیاگیا ہے یہ عام چینی ویزے، ہانگ کانگ خصوصی انتظامی ریجن کے ویزے اور مکاؤ خصوصی انتظامی ریجن کے ویزوں کیلئے درخواستیں وصول کرے گا جہاں بائیو میٹرک معلومات جمع ہونگی اور ویزے درخواست گزاروں کوواپس کئے جائیں گے،لاہور ویزہ سینٹر کے کام اور اختیارات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سینٹر کو ویزہ جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس کا بنیادی کام ویزہ درخواستیں جمع کرنا اور انہیں متعلقہ دستاویز کے ساتھ اسلام آباد ویزہ سینٹر کو بھیج دینا ہے،چینی سفارتخانہ لاہور ویزہ سینٹر میں براہ راست ویزہ جاری نہیں کرے گا کیونکہ لاہور سینٹر میں ویزہ درخواستیں وصول کرنے کا کام ایک نجی کمپنی کے حوالے کیاگیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ویزہ جاری کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کا مکمل اختیار چینی سفارتخانہ اسلام آباد کے ویزہ آفیسر کو حاصل ہے،ویزہ کی مدت، چین میں قیام اور شہروں کے بارے میں بھی درخواست گزار کے مخصوص حالات کے پس منظر میں فیصلہ کیاجائے گا ویزہ آفیسر درخواست گزار کو مزید معاون دستاویز یا اضافی مواد بھی پیش کرنے کیلئے یا اسے براہ راست انٹرویو کیلئے بھی کہہ سکتا ہے،چینی سفارتخانے سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وہ افراد جن کے پاس سفارتی یا سرکاری پاسپورٹ ہیں یا وہ سفارتی، سرکاری، ٹیلنٹ ویزہ کیلئے درخواست دیتے ہیں انہیں اپنی درخواستیں آن لائن فارموں پرمکمل کرنے کے بعد چینی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر پیشگی وقت لئے بغیر براہ راست بھیجنی چاہئیں،سفارتخانے نے کہا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان جہاں تک ویزہ فیس کے استثنیٰ کا تعلق ہے پاکستانی شہریوں کی ویزہ کیلئے کوئی قونصلر فیس نہیں ہے ویزہ سینٹر صرف ویزہ درخواستوں کیلئے سروس چارجز وصول کرے گا، علاوہ ازیں ویزہ سینٹر کسی تیسرے ملک کے شہریوں سے ویزہدرخواست فیس وصول کرے گا انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی شہری ویزے سے مستثنیٰ ہیں وہ 30 دن کیلئے مین لینڈ چین، 14دن کیلئے بالترتیب ہانگ کانگ اور مکاؤ انتظامی ریجن میں قیام کر سکتے ہیں سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی ویزہ سے مستثنیٰ ہیں اور وہ بھی 30دن کیلئے مین لینڈ چین اور 14دن کیلئے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی ریجن چین میں قیام کر سکتے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ویزہ سینٹر میں ہر ماہ تقریباً4 ہزار ویزہ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں جبکہ گزشتہ ماہ طلبا کی ویزہ درخواستوں کے باعث یہ تعداد 6ہزار تک پہنچ گئی۔