اسلام آباد (نیوزرپورٹر)اپوزیشن کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے سی پیک اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ ، سی پیک اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ معاونتی کمیٹی اور مشترکہ گروپس کے اجلاس، منصوبوں کی پیشرفت، نئے منصوبوں کی پلاننگ، بین الوزارتی اور بین الصوبائی سی پیک سر گرمویں اپنا کردار ادا کرے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت قانون نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے بعد آرڈیننس جاری کیا ہے جبکہ اس حوالے سے چین کی حکومت نے سی پیک پر موثر اور تیز عملدرآمد کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ صدارتی آرڈیننس کے تحت سی پیک اتھارٹی قائم کی جائے گی، جس میں چیئرمین سمیت دو ایگزیکٹو اور چھ ممبران شامل ہوں گے جبکہ وزیراعظم ان تمام عہدوں پر چار سال کیلئے تعیناتی کریں گے۔ آرڈیننس کے مطابق سی پیک اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان فریم ورک اور ایم او یو کے مطابق کام کرے گی جبکہ اتھارٹی دوطرفہ تعاون کے نئے منصوبوں کی نشاندہی بھی کرے گی، سی پیک اتھارٹی دونوں ممالک کے مشترکہ معاونتی کمیشن اور مشترکہ گروپس کے اجلاس طے کرے گی، بین الوزارتی اور بین الصوبائی سی پیک سر گرمیوں میں بھی یہ اپنا کردار ادا کرے گی۔ وزارت قانون کی جانب سے جاری صدارتی آرڈیننس کے مطابق وزیراعظم کو اتھارٹی کے چیئرمین، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ممبران کو ہٹانے کا اختیار ہو گا۔یاد رہے کہ اپوزیشن نے قائمہ کمیٹیوں میں پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر حکومت کی جانب سے سی پیک اتھارٹی کے قیام کو مسترد کر دیا تھا تاہم حکومت نے گزشتہ روز اپوزیشن کے تحفظات کو نظر اندا ز کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کے قیام کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
