پیک دونوں ملکوں کے مابین تعاون کی روشن مثال ہے، موجودہ حکومت زراعت کے شعبہ کو ترقی دے کر عوام کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتی ہے، زرعی شعبہ کی ترقی و بہتری کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں
وفاقی وزیر صاحبزادہ محمد محبوب سلطان کا پاک۔چین زرعی تعاون فورم سے خطاب
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و زرعی تحقیق صاحبزادہ محمد محبوب سلطان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) دونوں ممالک کے مابین تعاون کی روشن مثال ہے، موجودہ حکومت زراعت کے شعبہ کو ترقی دے کر عوام کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتی ہے، زرعی شعبہ کی ترقی و بہتری کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاک۔چین زرعی تعاون فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین زرعی شعبہ میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں، زرعی شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر نہ صرف پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ غربت میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان زراعت کے شعبہ میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والا ایم او یو دونوں ممالک کے درمیان زراعت میں ادارہ جاتی سطح پر تعاون کی راہ کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان میں 39 فیصد افراد کو روزگار مہیا کرتی ہے، حکومت اس شعبہ کو ترقی دے کر کر عوام کا معیار زندگی بلند کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے خطہ میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے سی پیک دونوں ممالک کے تعاون کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کا نجی شعبہ جوائنٹ وینچرز قائم کر سکتا ہے، حکومت اس سلسلہ میں ہر طرح کا تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تعاون فورم سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ایک موقع ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی نے کہا کہ یہ فورم دونوںممالک کے درمیان زراعت کے شعبہ میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ چین سرمایہ اور تکنیکی تجربے سے مالا مال ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فورم میں چینی انجینئرنگ کارپوریشن کا خیرمقدم کرتے ہیں جس سے زرعی شعبہ میں تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا، فورم کا انعقاد دونوں ممالک کی قیادتوں کے وژن کا عکاس ہے۔

