
اسلام آباد:
چیف الیکشن کمشنر نے2014 ء سے زیر سماعت پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اسکرروٹنی کمیٹی کے اسٹیس پر 4 ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ منگل کو الیکشن کمیشن پاکستان میں پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو مبینہ دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت میں اکبر ایس بابر کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے مکل کو حکمران جماعت کی جانب سے کیس واپس لینے کے لیے ہراساں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر ہیں، کسی کی آزادی اور زندگی کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن تحفظ دے۔ میں عدالتی احکامات کی مثالیں پیش کرسکتا ہوں کہ جس عدالت میں کیس ہو وہ درخواست گزار کوتحفظ دے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا تھاکہ ہم پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر واحد ایسے پارٹی رکن ہیں جو شفافیت کے لیے فنڈنگ کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں۔اس پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب نے درخواست گزار نے کہا کہ آپ 249 اے کا سہارا لے سکتے ہیں، آپ کو دھمکیوں کے معاملے پر متعلقہ فورمز سے رابطہ کرنا چاہیئے۔جس پر اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ ہم نے متعلقہ فورمز سے بھی رابطہ کیا ہے۔
رکن پنجاب کا کہنا تھا کہ ہمیں کیا پتا کے آپ کے باہر پی ٹی آئی سے کیا معاملات ہیں، آپ کے دلائل دیکھ کر فیصلہ کرینگے، آپ اس متعلق اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔
سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل خاور شاہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کے مطابق چل رہے ہیں اور کمیٹی میں اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔
وکیل پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ اب تو ہمارے دلائل پر درخواست گزار نے جواب جمع کروانا ہے، ہمارے پارٹی اکانٹس کی تفصیلات کے ساتھ چارٹرڈ اکانٹنٹس کے سرٹیفکیٹ موجود ہیں۔وکیل خاور نے سماعت میں موقف اختیار کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی ٹی او آرز کے مطابق اپنی سکروٹنی کررہی ہے، کمیٹی درخواست گزار کی خواہشات پر اپنے دائرہ اختیار سے باہر تو نہیں جاسکتی۔
اس پر ڈائریکٹر جنرل لا نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کے موجودہ اسٹیٹس کے حوالے سے رپورٹ ایک ہفتے میں مکمل کر لیں گے، انہوں نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کمیٹی کے اراکین گھر سے کام کر رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمیشن نے ڈی جی لا سے دریافت کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کب تک دیں گے؟جس کے جواب میں ڈی جی لا کا کہنا تھا کہ ابھی تو بینک اکائونٹس کا آڈٹ کرنا ہے، اسٹیٹ بینک کے مہیا کردہ اکاونٹ کا جائزہ لینا ہے۔جس پر چیف الیکشن کمشنر ہدایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس رپورٹ چار ہفتے کے اندر پیش کریں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے حوالے سے 4 ہفتے بعد دوبارہ جائزہ لیں گے امید ہے 4 ہفتے میں آپ کام مکمل کر چکے ہوں گے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 ء میں دائر کیا تھا جو ابھی تک زیر التوا ہے
کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریبا 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطی سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکائونٹس میں بھیجی گئی۔ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکانٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔
بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکائونٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکائونٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔
اسی دوران مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکانٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔



