حسب توقع آزادی مارچ دھرنے میں تبدیل

دھرنے کے شرکاء کی تیاری سے لگتا ہے کہ وہ کشتیاں جلا کے آئے ہیں
شرکاء کے چہروں پر نہ تھکاوٹ کے کوئی آثار تھے نہ موسم کی سختی کا کوئی خوف
شرکاء کی گفتگو پر مغز ہے لگتا نہیں کہ انہیں بھلا پھسلا کر لایا گیا ہے
مولانا نے کہا کسی اور کو سنایا کسی اور کو، دودن کی مہلت دی یا لی وقت بتائے گا
ماضی ک دھرنوں کی طرح اس دھرنے میں بچے اور خواتین شریک نہیں ہیں

Image result for jui f azadi march"

اسلام آباد( تجزیہ :محمدرضوان ملک )آخر وہی ہوا جس کی سب توقع کر رہے تھے بلآخر آزادی مارچ دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔فی الحال تو یہ دھرنا دو دنوں تک یہی رہے گا اور اگر وزیراعظم کا استعفیٰ نہ آیا تو اس کے بعد یہ دھرنا آگے بھی جاسکتا ہے تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ مارچ یہاں سے اٹھ کر سیدھا ڈی چوک جائے گا یا ڈی چوک تک اس کا سفر مرحلہ وار ہوگا۔ اگر مولانا حکومت کو کچھ زیادہ وقت دینے پر آمادہ ہوئے تو پھر یہ دھرنا مرحلہ وار ڈی چوک تک جاسکتا ہے۔ تاہم دھرنے کے شرکاء کی تیاری سے لگتا ہے کہ وہ کشتیاں جلا کے آئے ہیں۔شرکاء کا سامان بتاتا ہے کہ وہ ء کوئی جلسہ کرنے نہیں آئے بلکہ ان کے سامان اور تیاریوں سے لگتا ہے کہ وہ ایک لمبی مدت تک قیام کے ارادے سے آئے ہیں اور انہوں نے اس کی بھرپور تیاری بھی کر رکھی ہے۔ مولانا منطق کے طالبعلم ہیں وہ کہتے کسی اور کو ہیں اور سناتے کسی اور کو ہیں تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتادیا کہ جس کو سنانا تھا اس نے سن لیا ہے ۔ اب انہوںنے دو دن کی مہلت دی ہے یا لی ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔ حکومتی اراکین کا موقف ہے کہ انہوں نے مہلت دی نہیں لی ہے۔ تاہم اس لفظ مہلت نے حکومتی صفوں میں ہلچل پیدا کی ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق مولانا کے خطاب کے خاتمے کے ساتھ ہی حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے سر جوڑ لئے تھے اور وہ مولانا کو وعدے یاد دلانے کے لئے بے چین تھے۔
دھرنے میں چند گھنٹے گزارنے والا ہر باشعور انسان یہ باآسانی جان سکتا ہے کہ یہ لوگ محض پشاور موڑ تک شو کر کے واپس جانے والے نہیں ہیں۔ دھرنے کے شرکاء اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر انہیں کئی دن بھی رکنا پڑے تو وہ باآسانی رک سکتے ہیں۔ مارچ میں شریک لوگوں کی اکثریت کا تعلق مولانا کی اپنی جماعت سے ہے قریبا ساٹھ سے ستر فیصد شرکاء جے یو آئی ف کے ہیں اور یہ تناسب جھنڈوں کا بھی ہے ۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں اور کئی دن تک کھلے آسمان کے نیچے رہنا ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ لوگ پندرہ سے بیس بیس افراد پر مشتمل گروہ گروہ ہیں جن کے پاس کھانا پینے کے سامان کے ساتھ ساتھ پکانے کا بھی بندوبست ہے ۔ کسی مشکل صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس خشک میوہ جات بھی ہیں ۔بستر کمبل اور خیمے بھی موجود ہیں ۔ ایک بڑے خیمے میں محمدی بستر بچھائے شرکاء کے چہروں پر نہ تھکاوٹ کے کوئی آثار تھے نہ موسم کی سختی کا کوئی خوف،محمدی بستر پر سونا تو ویسے ہی ان کی عادت ہے اور اوپر سے انہیں ذہنی طور پر تیار کیا گیا ہے کہ ان کی اس قربانی کا ایک عظیم مقصد ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ ایک مشن لے کر آئے ہیں اور اس کی راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑ کر دکھائیں گے۔ شرکاء کی گفتگو سے یہ بھی نہیں لگتا کہ ان میںسیاسی شعور نہیں ہے اور انہیں بھلا پھسلا کر لایا گیا ہے۔
جلسے کا وقت تبدیل ہونے کے باعث اپوزیشن کی تقسیم کا جو تاثر جمعرات کو ابھرا تھاآج اپوزیشن کے تمام اہم رہنمائوں نے دیگر مصروفیات چھوڑ کر مولا نا کے مارچ کو وقت دے کراس غلط ثابت کر دیا ۔ اس سے ایک بات ثابت ہوگئی کہ مارچ کے شرکاء کی تعداد اس قدر ضرور تھی کہ اس نے تمام اپوزیشن کو پھر ایک صفحے پر کر دیاہے۔ شرکاء کی تعداد اس قدر تھی کہ جی ٹین سے جی ایٹ تین ساڑھے تین کلومیٹر تک انسانی سر ہی سر تھے اور ان سروں نے ہی اپوزیشن کو اختلافات کے باوجود پھر ایک صفحے پر کر دیا۔
مولانا کے آزادی مارچ کی ایک خاص انفرادیت یہ بھی تھی کہ ماضی کے دھرنوں اور مارچوں سے ہٹ کر اس میں بچے اور خواتین بالکل نہیں تھے۔کئی گھنٹے مارچ میں گزارنے کے بعد صرف تین خواتین دیکھی گئیں جن میں دو مقامی اور ایک غیر ملکی صحافی تھیں۔دھرنے کے اندر تو کوئی خاتون نہ تھی تاہم جی نائن میں دھرنے کے ایک داخلی دروازے کے پاس دو باپردہ خواتین چاول فروخت کر رہی تھیں۔دھرنے میں شرکاء کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوشش کے باوجود شرکاء دھرنے کا دوسرا سر دیکھنے سے قاصر تھے۔
آزادی مارچ میں تحریک انصاف اور طاہر القادری کے دھرنے کی طرح نعرے اور ترانے گونجتے رہے ، شرکاء نے نعرے لگائے بھی اور رہنمائوں نے لہو گرم رکھنے کے لئے نعرے لگوائے بھی تاہم ماضی کے دھرنوں کے مقابلے میں اس دھرنے میں خواتین اور بچے نہیں تھے صر ف گنتی کی چند صحافی خواتین تھیں جن میں ایک غیر ملکی بھی تھیں۔
دھرنے اور مولانا کی سیکورٹی جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے جانثاروں پر مشتمل تھی۔سیکورٹی کے فول پروف ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیکورٹی پر معمور افراد پشتو کے علاوہ کوئی زبان نہ جانتے تھے اس لئے مولانا کے کنٹینر کے قریب جانے کے خواہشمند انہیں قائل کرنے سے قاصر تھے صرف وہی آگے جا سکتے تھے جنہیں کنٹینر کے اندر سے کوئی لینے آتا۔