ھذا الامین رضیناہ سے لے کر رسول اللہ کے خون کے پیاسے ہونے تک۔۔۔۔۔

* ***

رسول اللہ (ص) قریش کے قبیلہ بنی ہاشم میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان عرب میں معروف تھا۔ لوگ اس خاندان کی عزت کرتے تھے اور اس خاندان کو ایک مقام دیتے تھے۔

خود رسول اللہ (ص) جب پیدا ہوئے تو آپ پر جلد ہی یتیمی کے بادل چھا گئے۔ جس کے باعث لوگ مزید آپ سے محبت کرتے تھے۔ پھر جب رسول اللہ جوان ہوئے تو آپ نے اپنی اعلی سیرت کے باعث لوگوں کے دلوں کو مزید جیت لیا۔

کوئی بھی آپ (ص) کی مخالفت نہیں کرتا تھا۔ لوگ رسول اللہ سے اتنی محبت کرنے لگے تھے کہ وہ آپ کو آپ کے اصل نام سے نہیں پکارتے تھے۔ بلکہ وہ آپ کو الصادق یا الامین کہتے تھے۔

جس وقت رسول اللہ کی عمر مبارک صرف 35 سال تھی تو اس وقت قریش نے کعبہ کی مرمت کی۔ عمارت تو سب نے مل کر بنائی لیکن جب حجر اسود کو قائم کرنا کا موقع آیا تو سخت اختلاف ہو گیا۔ کیونکہ ہر اک یہی چاہتا تھا کہ یہ کام اسی کے ہاتھ سے سرانجام پائے۔ چار دن جھگڑا چلتا رہا اور آخر پر سب سے عمر رسیدہ شخص نے رائے دی کہ کسی کو حکم بنا کر اس کے فیصلے پر عمل کریں گے۔

اس رائے کومانا گیا اور یہ قرار دیا گیا کہ جو کوئی سب سے پہلے حرم میں آئے گا وہی سب کا حکم سمجھا جائے گا۔ اتفاقا رسول اللہ تشریف لے آئے۔ رسول اللہ کو دیکھ کر سب نے یہ نعرے لگائے:

*ھذا الامین رضیناہ* (امین آ گیا، ہم اس کے فیصلے پر رضا مند ہیں)

پس لوگوں کو رسول اللہ سے اس قدر محبت تھی کہ وہ رسول اللہ کو دیکھ کر نعرے لگاتے تھے۔ اور بات بات پر جھگڑا کرنے والے عرب رسول اللہ کو صرف 35 سال کی عمر میں ہی مقام و مرتبہ دینے لگے تھے۔

لیکن یہ کیا ہوا ؟ اسی پیارے و خوبصورت صادق و امین نے جب 40 سال کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا اور معاشرے کی رسومات کو پاوں تلے روندھنا شروع کیا تو اپنوں سے لے کر غیروں تک نے ساحر و مجنون و شاعر جیسے ہتک آمیز جملے کہنے شروع کئے۔

حتی ہجرت کی رات سب نے مل کر انہی محبوب امین و صادق محمد کو قتل کرنا چاہا۔

ایسا کیوں ہوا ؟ کہ ایک شخص جو ابھی آنکھوں کا تارا تھا لیکن جیسے ہی اس شخص نے خواص کو چیلنج کیا اور معاشرے کی ڈگر سے ہٹ کر معاشرے کو خدائی راستوں پر چلانا شروع کیا تو محبت کرنے والے لوگ خون کے پیاسے ہو گئے۔۔۔۔۔۔

بالکل اسی وجہ سے کہ جب تک موسی (ع) فرعون کے گھر میں تھے۔ تو فرعون راضی تھا۔ جیسے ہی موسی (ع) نے حق کا اعلان کیا اور معاشرہ سازی شروع کی تو فرعون دشمن بن گیا۔

یہی ازلی قانون ہے۔ جب تک آپ معاشرے کے ساتھ چلتے رہیں آپ سب کی آنکھوں کا تارا بن جائیں گے۔ لیکن جیسے ہی آپ حق کا اعلان کریں گے اور جیسے ہی آپ ناجائز رسومات کو پاوں تلے روندھنا شروع کریں گے نیز جیسے ہی آپ لوگوں کا رخ اللہ کی جانب موڑنے لگیں گے تو باطل پرست آپ کے آگے کھڑے ہو جائیں گے۔ جیسے ہی آپ وڈیروں کے مفادات کے خلاف کھڑے ہونگے تو وڈیرے آپ کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔

اور انبیاء کی یہی شان ہے۔ رسول اللہ نے یہ نہیں سوچا کہ لوگ تو مجھے صادق و امین کہہ رہے ہیں اور مجھ سے محبت کر رہے ہیں۔ لہذا بس اتنا ہی کافی ہے۔ بلکہ رسول اللہ نے آگے بڑھ کر انہی محبت کرنے والوں کو اپنا کٹر دشمن بنا لیا۔ یہی نبوت و رسالت و امامت ہے۔ اور یہی ہر اس انسان کی زمہ داری ہے جو اپنے آپ کو الہی نمائندوں سے جوڑتا ہے۔