کام لٹک گیا، میں نہیں سمجھتا کہ استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو: عبدالغفور حیدری

اسلام آباد: جمعیت العلمائے اسلام (ف)کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ کام لٹک گیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وزیراعظم کے استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو۔

انہوں نے حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودھری پرویز الہی باوقار انسان ہیں اور ان سے ماضی میں بھی تعلق رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات با مقصد ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو وزیراعظم کا استعفی چاہتے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ چودھری پرویز الہی اس کوشش میں ہیں کہ ہم وزیراعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کہتا ہے کہ براہ راست استعفی اچھا نہیں لگتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ انتخابات کرالیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ وزیراعظم کا استعفی اور نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔

جے یو آئی ( کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ڈیڑھ سال ہو گیا لیکن پارلیمانی کمیٹی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ جب حکومت نے ہم سے رابطہ کیا تو اسی وقت ہم نے اپنا موقف واضح کردیا تھا اور اب بھی کہتے ہیں کہ استعفے اور انتخابات پر بات کرنی ہے تو ہم حاضر ہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ ہماری طرف سے بند نہیں ہے لیکن اگر حکومت بند کرنا چاہتی ہے تو ہم کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تصادم کی طرف تو حکومت لے کر جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقف واضح ہے اور ہم گزشتہ آٹھ دس دن سے پرامن طور پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کا معاملہ کچھ اور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تحریک ہے اور ہمارے قدم آگے بڑھیں گے