نئی دہلی:بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کرنے اور مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا، بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کیا گیا۔ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے، سنی وقف بورڈ کو 5 ایکڑ متبادل زمین دی جائے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا، پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں۔چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔عدالت نے
متنازع 2 اعشاریہ 77 ایکٹر زمین مرکزی حکومت کے حوالے کرتے ہوئے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کے خلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی جس میں سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔1528 میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھیا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعوی کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کیلئے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا۔حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ ب
ابری مسجد کیس کے مسلمان فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظرانداز کر دیا؟ ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن تحفظات برقرار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے نہ کسی کی جیت ہوئی نہ ہی ہارا لہذا احتجاج اور مظاہرے نہیں ہونے چاہئیے۔مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں۔5 ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی،ہماری شریعت کے مطابق ہم اپنی مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔مسجد اللہ کی ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل کریں گے۔
بھارت،بابری مسجدکیس، سپریم کورٹ کا رام مندر کی تعمیر کا حکم مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی، بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، مسجد خالی پلاٹ پر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی، مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل 5ایکڑ زمین دی جائے،عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے،چیف جسٹس رانجن گنگوئی،فیصلے کے خلا ف نظر ثانی اپیل کریں گے.سنی وقف بورڈ




