کوفہ کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی، بلاول

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سیاسی یتیموں سے ملک اور معیشت نہیں چل رہی، ان کا کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے، کوفہ کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی۔ انہوں نے 2020ء کو الیکشن کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں اور عوام کی طاقت سے سیاسی یتیموں اور سلیکٹڈ کو گھر بھیج کر عوامی راج قائم کریں گے۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کی 12ویں برسی کے موقع پر کارکنوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا اور والدہ کی کاوشوں پر روشنی ڈالی، ان کا ہنا تھا کہ بھٹو شہید نے سرزمین پاکستان کو آئین دیا اور ایٹمی قوت بنایا، مزدوروں کو حقوق، کسانوں کو زمین دی، عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنایا، بدقسمتی سے ضیاء الحق کو عوامی راج پسند نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شہید بی بی نے خواتین کو حقوق دیے، قیدیوں کو رہا کروایا، میڈیا کو آزاد کروایا اور دنیا میں پاکستان کا نام بلند کیا، بے نظیر 2 آمروں سے ٹکرائیں، سلیکٹو سیاستدانوں اور سیاسی یتیموں، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابل کرتی رہیں، وہ کسی آمر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تھیں اس لئے ملک دشمن قوتوں کو بے نظیر بھٹو برداشت نہیں ہوئیں۔بلاول نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے بے نظیر کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، ہم نے غصہ قابو میں رکھا، انتقام اور انتشار نہیں پھیلنے دیا۔
موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے نام پر آج ملک پر سیاسی یتیموں اور سلیکٹڈ کا راج ہے، یہ تجربہ ناکام ہوچکا، حکومت عوام کیلئے عذاب بنی ہوئی ہے، معاشی فیصلے عوام نہیں، آئی ایم ایف لے رہا ہے، پارلیمان پر تالہ، میڈیا آزاد نہیں، جوڈیشری اور آئین پر حملے ہورہے ہیں، صوبوں سے حق چھینا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی کی آگ ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے، قبائلی علاقوں سے پشاور تک عوام اپنے حقوق کیلئے احتجاج کررہے ہیں، ڈاکٹر، اسٹوڈنٹ، تاجر اور کسان سب سراپا احتجاج ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالنا غریب دشمنی نہیں تو اور کیا ہے، یہ وہ جمہوریت نہیں جس کیلئے ہم نے قربانی دی، یہ وہ معیشت نہیں جس کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک شروع کی، یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بے نظیر کا وعدہ نبھانا ہے اور پاکستان کو بچانا ہے، جمہوریت کو بحال اور ملک کو بچائیں گے، ووٹ کو تحفظ دیں گے اور طاقت کا سرچشمہ عوام کو بنائیں گے، آج ملک میں آئینی، معاشی، سیاسی اور قیادت کا بحران ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی سیاست بزدلانہ سیاست ہے، جہاں بزرگوں اور خواتین کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا جاتا ہے، یہ کہتے تھے نواز شریف اور آصف زرداری باہر نہیں آئیں گے، دیکھیں وہ باہر آگئے، کوفہ کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی۔
چیئرمین پی پی پی کا کہنا ہے کہ سیاسی یتیم گھبرا رہے ہیں، ان کا کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے، ان سیاسی یتیموں سے ملک اور معیشت نہیں چل رہا، ایک سال میں 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے، حکومت روزگار کے مواقع پیدا نہیں کررہی، حکومت کہتی ہے کہ نوکریوں کیلئے ہماری طرف نہیں دیکھو ہم ادارے بند کررہے ہیں، آواز اٹھانے پر ہمیں جھوٹا اور کرپٹ کہا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے 2020ء کو صاف اور شفاف انتخابات کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی یتیموں کا راج ہوگا تو ملک اور معیشت نہیں چل سکتی، آپ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، آئندہ سال عوامی راج کا سال ہوگا، خیبر سے کراچی تک عوام کہہ رہے ہیں الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع، الوداع الوداع سلیکٹڈ الوداع۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں عوامی راج پیپلزپارٹی کے بغیر نہیں آسکتا، معاشی انصاف اور عوامی راج کیلئے میرا ساتھ دیں، ہمارا ملک، جمہوریت اور آزادی خطرے میں ہے، کارکنوں کی محنت اور عوام کی حمایت سے سلیکٹڈ اور سیاسی یتیموں کو گھر بھیج کر رہیں گے اور عوامی راج قائم کریں گے۔