جونکیں چمٹ گئیں ، فنڈز بند کام ٹھپ ، ادارہ تباہی کے دہانے پر ،وزیراعظم کے معاون خصوصی کے قریبی ساتھیوں کی من مانیاں
غیر قانونی بھرتیوں پر پبلک اکائونتس کمیٹی کا بھی اظہار تشویش ،کمیٹی کی جانب سے انکوائری کی سفارش کے راستے میں بھی بااثر مافیا حائل

اسلام آباد :پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹ میں بڑے پیمانے پر سیاسی بھرتیاں جاری ہیں جس سے ادارے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔فنڈز نہ ہونے کے باعث آرٹ کے پرموٹ کے حوالے سے تمام کام بند ہیں اور ادارہ تباہی کے دہانے پر جاچکا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن امیر مقام نے ادارے میں سیاسی ورکرز ،قریبی ساتھیوں اور ووٹرزکی بھرتی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ بھرتی ہونے والے یہ لوگ اول تو دفتر آتے ہی نہیں اور اگر آ بھی جائیں تو پیشہ ورانہ اہلیت اور تربیت نہ ہونے کے باعث کسی کام کے نہیں بلکہ ادارے پر بوجھ ہیں۔
ذرائع کے مطابق اور مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے آنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن خورشید احمد نے غیر قانونی طور پر (PNCA) میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن امیر مقام کے تین قریبی ساتھیوں عنایت اللہ ، محمد عارف ، اور وحید اللہ کو اکتوبر ،2022 سے PNCAکی مختلف پوسٹوں پر بھرتی کیا ہوا ہے۔ تینوں مذکورہ افراد فزیکلی تو PNCA میں کبھی حاضر بھی نہیں ہوئے لیکن ، اکتوبر 2022، سے مسلسل ان تینوں افراد کو مبلغ80,000/-فی کس ماہانہ تنخواہ ادا کی جا رہی ہے۔اس سے قبل بھی PNCA کے مذکورہ دونوں آفیسرز ، ایوب جمالی اور خورشید احمد نے سابقہ ڈائریکٹر جنرلز سید جمال شاہ ، فوزیہ سعید اور ان کے بعد کے دور میں بھی ابھی تک غیر قانونی طور پر خلافِ قوائد و ضوابط اقربا پروری اور ذاتی تعلقات کی بنا پر60تا70افراد کو Contract اور کنسلٹنٹس کی پوسٹوں پر تعینات کیا ،جس پر اب تک120ملین خرچ ہو چکے ہیں۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی نے گزشتہ ہفتے ان غیر قانونی بھرتیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے، لیکن PNCA کے دونوں افسران ایوب جمالی اور خورشید احمد نے امیر مقام صاحب سے ذاتی تعلقات کی بنا پر اپنے خلاف انکوائری نہیں ہونے دے رہے۔مزید براں اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اقربا پروری اور ذاتی تعلقات کی بنا پر معاونِ خصوصی برائے قومی ورثہ اور ثقافت ڈویژن امیر مقام کے سیاسی ورکرز اور قریبی ساتھیوں اور ووٹرزکی بھرتی مستقل بنیادوں پر کیں اور اگلے ہفتے گریڈ 17تا 19پر مزید بھرتیاں بھی متوقع ہیں۔



