اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے نیب ترمییآرڈیننس کی مخالفت کردی پارلیمینٹ میں نیب ترمیمی آرڈیننس کا جائزہ لے کر لائحہ عمل اپنائیں گے ہم تو نیب کو برقرار رکھنا ہی نہیں چاہتے رہبر کمیٹی کے کنوینئراکرم خان درانی نے واضح کیا ہے کہ کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے،اپنے آپ کو اوراپنے دوستوں کو بچانے کے لئے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا گیا ہے ،حکومت مختلف ذرائع سے اپوزیشن جماعتوں کو تنگ کررہی ہے ، ہم اداروں کی لڑائی نہیں چاہتے سب ادارے اپنے اپنے اختیار کے اندر ہوں، واجد ضیاء کی جو تقرری ہے وہ بھی اسی بنیاد پر ہے کہ آپ نے فلاں کو گرفتار کر نا ہے اور آپ نے فلاں کو گرفتار کرنا ہے، جب عدلیہ کا فیصلہ آیا تو وفاقی وزراء نے عدلیہ کو اور فوج کو آپس میں لڑانے کی بھر پور کوشش کی ۔
اس امر کا اظہار انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، پی پی خیبر پختونخوا کے صدر ہمایوں خان، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان خان کاکڑ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا شفیق پسروری، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین ، قومی وطن پارٹی کے رہنما ہاشم بابر اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں نہ بجلی ہے اور نہ گیس ہے، جدھر بھی دیکھیں ٹھنڈ ہی ٹھنڈ ہے۔ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، سلیکٹڈ وزیر اعظم اپنے لوگوں کو خوشخبری دیتے ہیں کہ نیب کے مقدمات کے لئے آج میں نے آرڈیننس جاری کروایا ہے آپ نیب سے آزاد ہوں گے ۔ نیب چیئرمین کہہ رہا کہ ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے اسی لئے حکومت آرڈیننس جاری کر رہی ہے۔
احسن اقبال کی گرفتاری اپنے ضلع میں سپورٹس کمپلیکس بنانے پر ہوئی اور الزام ہے کہ چھ ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے اور منصوبہ کی کل لاگت اڑھائی ارب ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری بھی انتہائی شرمناک ہے۔ یہ صاف بات ہے کہ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے ۔آج بی آر ٹی پشاور کا مسئلہ پورے ملک کے بچے، بچے، میڈیا اور ہر سیاستدان کی زبان پرہے، اس منصوبہ میں کرپشن چھپناے کے لئے پی ٹی آئی سپریم کورٹ جا رہی ہے اور نیب چیئرمین کہتے ہیں کہ مجھے اس لئے روکا گیا ہے کہ اس میں حکم امتناع ہے۔ سپریم کورٹ سے استدعا کرتے ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے نیب کو بی آر ٹی منصوبہ کی جو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا اس حوالہ سے جاری حکم امتناع ختم کیا جائے ۔ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مالم جبہ میں بھی اسٹے ہے اور بلین ٹری سونامی پر بھی اسٹے ہے؟ اگر بی آر ٹی پر اسٹے ہے تو ہم چاہتے ہیں کی بلین ٹری سونامی منصوبہ اور مالم جبہ پر فوری کاروائی ہو۔ موجودہ حکومت مختلف ذرائع سے اپوزیشن جماعتوں کو تنگ کررہی ہے۔ حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان سب جماعتوں نے سب کچھ دیکھا ہے پرانی جماعتیں ہیں اور آپ کی جماعت نئی ہے اور آپ نئے ہیں صرف اتنا کرو کہ جو کل آپ بھی برداشت کر لیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے مذید کہا کہ زبان پر تالہ بندی ہے ، میڈیا کے اظہار پر بھی تالہ بند ی ہے ۔میڈیا میںجو حکومت کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں ان کو بھی مختلف طریقو ں سے مشکلات کا سامنا ہے۔سیاسی جماعتوں کے جو رہنما بھی میڈیا پر آزادی سے بات کرتے ہیں ان کے خلاف نیب اور ایف آئی اے متحرک ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں رہبر کمیٹی کے رکن احسن اقبال کی گرفتاری بھی اسی بنیاد پر ہے کہ وہ میڈیا پر آکر حکومت کے خلاف کھلا اظہار کر رہے تھے ۔ آج کل گرفتاریاں بھی عجیب سی ہیں۔ وہ پورے ملک کے وزیر ترقی ومنصوبہ بندی تھے اس نے پورے ملک کے لئے بڑے منصوبے بنائے ہیں اور سی پیک منصوبہ بھی اسی کا مرہون منت ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صاف بات ہے کہ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری جو کہ آزادی کی بات کرتا ہے ، میڈیا کی آزادی کی بات کرتا ہے اور حکومت کے خلاف اور مہنگائی اور لوگوں کے خلاف ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف کھل کر بات کرتا ہے اس کو بھی نوٹس آیا ہے۔ اگر ہم کہتے ہیں یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے تو اس پر غصہ میں بھی آجا تے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی کمیٹی نے نیب کے حوالہ سے بل متفقہ طور پر پاس کیا تھا کہ لیکن ساڑھے تین ماہ سے سینیٹ کا اجلاس نہیں بلا رہے۔
سینیٹ کا اجلاس اس لیئے نہیں بلا رہے کہ بل حکومت کی امنگوں کے مطابق نہیں تھا اور اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور اپنے دوستوں کو بچانے کے لئے ایک آرڈیننس کا سہارا لیا۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہی اور اگر اپوزیشن اجلاس بلاتی ہے تو دو دن بعد اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جس سے وہ پارلیمنٹ اور اداروں کی بے توقیری نہیں کررہے۔
اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہم اداروں کی لڑائی نہیں چاہتے سب ادارے اپنے اپنے اختیار کے اندر ہوں ، عدلیہ بھی آزاد ہے ، عدلیہ فیصلہ بھی کر سکتی ہے اور ہم سب نے اس کوقبول بھی کرنا ہے اور اگر کسی کو فیصلہ پر اعتراض ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے اور کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ابھی عدالت کا ایک فیصلہ آیا ہے اور عدالت نے قرار دیا ہے کہ رانا ثناء اللہ خان کی گرفتار ی سے سیاسی بنیادوں کی بو آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری اور پورے پاکستان کی نظروں میں نیب ایک بہت زیادہ متنازعہ ادارہ ہے ۔ابھی ایف آئی اے کو بھی استعمال کر رہے ہیں اور ابھی واجد ضیاء کی جو تقرری ہے وہ بھی اسی بنیاد پر ہے کہ آپ نے فلاں کو گرفتار کر نا ہے اور آپ نے فلاں کو گرفتار کرنا ہے۔(ن)لیگ کے دفتر پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور (ن)لیگی رہنمائوں پرویز رشید، عظمیٰ بخاری ، عطاء تارڑ اور دیگر لوگوں کو نوٹس دیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عدلیہ کا فیصلہ آیا تو وفاقی وزراء نے عدلیہ کو اور فوج کو آپس میں لڑانے کی بھر پور کوشش کی ، اگر حکومت ہی اداروں کو آپس میں لڑا نے کی کوشش کرے تو یہ ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہے، یہ انتہائی نقصان دہ بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہہ رہی ہے آزادی نے مسئلہ کشمیر کو سبوتاژ کیا حالانکہ حکومت نے کشمیر کو خود بیچا ہے اور جن دوست ممالک نے ہمارا ساتھ دیا اب ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن انتہائی مصبوط اپوزیشن ہے اور اس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی آرڈیننس کا جائزہ لیں گی اور مناسب لائحہ عمل اپنائیں گی اور ہم تو نیب چاہتے بھی نہیں ہیں۔


