اسلام آباد(نوشی رحیم /لیڈی رپورٹر)میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی)کے زیر اہتمام شہر کے معروف تجارتی مرکز کی کارپارکنگ کی نیلامی میں سب سے زیادہ بولی دینے والی کمپنی بھاگ گئی۔7ہزار 3سو33مربع فٹ پر محیط مذکور ہ کار پارکنگ کاٹھیکہ ایم ایس فضل خان اینڈ کو نے 9 کروڑ 7لاکھ کی بلند ترین بولی دے کر ایک سال کےلئے حاصل کیا تھا،کمپنی نے کارپوریشن انتظامیہ کو مذکورہ کارپارکنگ کا ٹھیکہ نہ لینے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا ہے،تاہم کارپوریشن انتظامیہ نے مذکورہ اہم ترین معاملہ پر کوئی قانونی کارروائی کرنے یادوسرے نمبر پر بولی دینے والی کمپنی سے رابطہ کرنے کی بجائے ” چپ “سادھ لی ہے۔ڈائریکٹر ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہماری علم میں ایسی کوئی بات نہیں ،اگر کمپنی ڈیفالٹر ہوئی تو زرضمانت ضبط کرلیں گے۔گزشتہ ماہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی)کے شعبہ ڈی ایم اے کے زہر اہتمام شہر کے سب سے اہم ترین شاپنگ مال سینٹوریس کی کارپارکنگ کی نیلامی کی گئی تھی ۔نیلامی میں کل 19فرموں اورکمپنیوں نے حصہ لیاتھا،جن میںایم ایس اے اے انٹر پرائزز،ایم ایس اقبال شاہ حلیم زئی،ایم ایس شیرمحمد،ایم ایس محمد ریاض،ایم ایس سوفٹ سکیورٹی منیجمنٹ ،ایم ایس فضل خان اینڈ کو،ایم ایس شیر ولی خان،ایم ایس عمران انٹر پرائزز،ایم ایس امان اللہ خان،ایم ایس میر بالاج خان،ایم ایس حسن کارپوریشن،ایم ایس پوٹھوہار بلڈرز،ایم ایس پاکستان بیگج کارپوریشن ،ایم ایس اروما،ایم ایس عنایت اللہ خان اینڈ کو،ایم ایس ملک مسرور اینڈ کو،ایم ایس تھری اسٹارکمپنی اور ایم ایس ضیا ءاللہ خان پنو خیل اینڈ کو نے حصہ لیا۔تاہم ایم ایس فضل فضل خان اینڈ کونے 9 کروڑ 7لاکھ روپے کی سب سے زیادہ بولی دے کر نیلامی اپنے نام کرلی ۔دوسرے نمبر پر ایم ایس پوٹھوہار بلڈرز نے 9کروڑ 5لاکھ جبکہ تیسرے نمبر پرایم ایس پاکستان بیگج کارپوریشن نے 9کروڑ3لاکھ 50ہزارروپے کی بولی دی تھی۔مذکورہ پارکنگ پلاٹ کی نیلامی پہلے سے طے شدہ قوائد و ضوابط کے تحت ایک سال کیلئے دی گئی ،جبکہ کارکردگی کی بنیاد پر مذکورہ ٹھیکے میں مذید ایک سال کی توسیع دی جانی تھی۔ ذرائع کارپوریشن اورڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے کے باوجود بلند ترین بولی دینے والی کمپنی کی جانب سے بولی کی مذید رقم ادانہیں کی گئی ،جبکہ مذکورہ کمپنی نے ڈی ایم اے سے مذکورہ کارپارکنگ کی جگہ بھی ہینڈ اوور کرنے کا مطالبہ نہیں کیا،اسی ذرائع کے مطابق دوروز قبل مذکورہ کمپنی کے کنٹریکٹر نے باقاعدہ طور پر سینٹوریس کارپارکنگ نہ لینے سے متعلق ڈی ایم اے کو آگا ہ بھی کردیاہے ۔دوسری جانب کارپوریشن اس اہم تر ین معاملہ پر بلند ترین بولی دے کرغائب ہوجانے والی کمپنی کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی کرنے کی بجائے اس معاملہ کو دبانے کی کوشش کررہی ہے ۔واضح رہے کہ مذکورہ کارپارکنگ سے یومیہ 90ہزاروپے جبکہ سالانہ 9کروڑ سات لاکھ روپے کی آمد متوقع تھی ۔اس حوالے سے ڈائریکٹر ڈی ایم اے ظفر اقبال نے کہا ہے کہ ابھی تک مذکورہ کمپنی نے کارپارکنگ ہینڈ اوور کرنے کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا ،نہ ان کے بھاگ جانے سے متعلق کوئی علم ہے ،اگر کمپنی ڈیفالٹر ہوئی تو سکیورٹی کی مد میں پہلے لئے گئے 50لاکھ روپے (زرضمانت) ضبط کرلیں گے۔
بشکریہ:جہان پاکستان

