دو سال پہلے چیچہ وطنی اورساہیوال میں 250 عورتوں کو بھی زخمی کیا گیا تھا

چیچہ وطنی سے رضوان احمد ۔
۔موٹرسائیکل سوار کی طرف سے تقریبا ایک درجن کے قریب عورتوں کو زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے تھے ۔اور صرف تقریبا 4 زخمی خواتین کی طرف سے ہی پولیس تھانہ سٹی میں ایف آئی آر درج ہوئ تھی ۔نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزم رات ہوتے ہی اچانک راہ چلتی خواتین پر حملہ آور ہوتا اور پھر چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا ۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے انتہائی کوششوں کے باوجود ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائ جاسکی تھی۔تقریبا 2 سال تک خواتین خوف و ہراس کا شکار رہیں ۔ملزم نے جن خواتین کو زخمی کیا ان خواتین کے جسم کے پچھلے حصے اور بازووں پر زخم آئے تھے اور تمام خواتین کو ایک ہی قسم کے تیز دھار آلے سے زخمی کیا گیا تھا۔ اور نامعلوم ملزم کی طرف سے کی گئ وارداتوں کا دورانیہ ایک ہفتے سے لیکر 4 ماہ تک بھی رہا تھا ۔اسکے بعد ضلع ساہیوال میں بھی اسی قسم کی کچھ وارداتیں رونما ہوئ ۔اور بعد ازاں پولیس تھانہ سٹی ساہیوال نے وسیم نامی نوجوان اور اس کے ایک ساتھی کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا جسے ایک مضروبہ لڑکی نے شناخت پریڈ کے دوران پہچان لیا ۔جس کے بعد پولیس نے ساہیوال اور چیچہ وطنی میں ہونے والی واداتوں میں نامزد کر دیا ۔اور اس سلسلے میں ڈی ایس پی سرکل چیچہ وطنی کے دفتر میں ملزم کو مکمل چہرہ ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے پیش کیا اور میڈیا نمائندگان کے اصرار باوجود نہ تو اس کا چہرہ دیکھایا گیا تھا اور نہ ہی کوئی سوالات کرنے دئے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔30 اکتوبر سنہ 2013 میں چیچہ وطنی کی بلاک نمبر 8 میں زخمی ہونے والی نوجوان لڑکی کے مقدمہ کے وکیل محمد اکرم الجلال ایڈووکیٹ کی مطابق ملزم نے 2 سال قبل اس سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بے گناہ ہے۔بعد میں عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی تھی اور پولیس نے ایف آئی آر میں شامل دہشت گردی کی دفعہ 7ATA بھی ختم کر دی تھی ۔دوسری طرف ملزم وسیم کے وکیل شیخ صفدر اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے ملزم کو بری کر دیا تھا کیونکہ تمام مقدمات کے مدعیوں نے اس کو ٹرائیل کے دوران شناخت کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔اس کے بعد وہ کبھی بھی اس کے ساتھ رابطہ میں نہیں آیا ۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد چیچہ وطنی میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔