بچوں میں سنگین غذائی قلت معاملہ سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا،پاکستان میں 17.7فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اسلام آباد میں یہ شرح 32فیصد ہے

اسلام آباد: ملک کے اندر بچوں میں سنگین غذائی قلت کے معاملے کو سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، کروڑوں بچوں کو بنیادی مناسب خوراک نہ ملنے کے نتیجے میں شرح اموات بڑھ رہی ہے۔بچوںکا وزن کم ہورہاہے، نشوونما رک رہی ہے، آئین کے تحت بچوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اب تو غذا بھی مہنگی ہوگئی ہے، یہ معاملہ جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان کی طرف سے اٹھایا گیا تھا اور اس بارے میں باقاعدہ تحریک پیش کی گئی ، حکومتی ارکان نے بھی تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ معاملہ اٹھانے پر سینیٹر مشتاق احمد خان کو خراج تحسین پیش کیا۔سینیٹر مشتاق احمد خان نے زیر قاعدہ 218 کے تحت تحریک پیش کی کہ یہ ایوان اسلام آباد دارالخلافہ میں ناقص غذائیت کی بنا پر بچوںکودرپیش مسائل کوزیر بحث لائے۔ محرک نے کہا کہ پاکستان میں 7کروڑ بچے ہیں جوریاست کا مستقبل ہیں۔ نیوٹریشن کے بارے میں 2019 میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا سروے ہوا۔10 میں سے 4 بچے جن کی عمریں 5سال ہوتی ہیں غذائی قلت کا شکار ہیں ان میں 17.5فیصد بچوںکا عمر کے مطابق وزن بڑھ رہا ہے نہ گروتھ ہورہی ہیں تین میں سے 1بچے کا وزن کم ہے۔ پرورش اور نشوونما کم ہوکررہ گئی ہیں اور ان کی تعداد 8.6فیصد ہے۔ پاکستان میں 17.7فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اسلام آباد میں یہ شرح 32فیصد ہے ۔خیبرپختونخوا میں مجموعی طورپر 48.8فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور یونیسف نے ایک سالہ رپورٹ جاری کی ہے۔ ایک سال میں خوراک کی کمی کی وجہ سے پانچ سال کے عمر تک کے چار لاکھ 9ہزار بچے وفات پاگئے ہیں۔ پاکستان میں نومولود بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان 10خطرناک ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔22ویں میں سے پیدائش کے وقت ایک بچہ فوت ہو جاتا ہے۔حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کیلئے صاف پانی ، غذا ، مناسب دیکھ بھال کی سہولیات کی موجودگی ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 35 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی حفاظت کرے ۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں نومولود بچے بھی مررہے ہیں اور موجود بچے ظلم و زیادتی کا شکار بھی ہورہے ہیں ۔نوشہرہ کے واقعہ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے سات کروڑ بچوںکا مستقبل وابستہ ہے۔سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے بھی مشتاق احمد خان کے موقف کی حمایت کی اور کہاکہ انہوں نے اہم معاملہ اٹھایا ہے وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میںقوم سے بچوںکے حوالے سے کچھ وعدے کیے تھے ۔ 2011 کے بعد پاکستان میں بچوں میںخوراک کی کمی میں 4 فیصد اضافہ ہوگیا ہر آٹھ میں سے ایک بچہ کم غذا کی وجہ سے نشوونما رکنے سے دوچار ہے اب تو غذا بھی مہنگی ہوگئی ہے ،لنگر خانے مسئلے کا حل نہیںہے ریاست وسائل فراہم کرے۔بچوں اور بچیوں کیلئے قومی نیوٹریشن پلان بنایا جائے ، کھانے کوکچھ تو ملے ، بہتر غذا ضروری ہے ۔ تحریک انصاف کے سینیٹر مہر تاج نے بھی سینیٹر مشتاق احمد کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ پانی ، غذا ، ادویات کے علاوہ ماں کے دودھ کو بھی بچے کی حفاظت کیلئے شامل کرلیں یہ بہترین غذا ہے۔ اسلام نے بھی اس کا حکم دیا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاکہ سینیٹر مشتاق نے انسانیت کا مسئلہ اٹھایا ہے اس قسم کے معاملات اٹھانے سے ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو بنیادی خوراک ہی میسر نہیں ہوتی ، لنگر خانے سماجی فلاحی ریاست کے حوالے سے اٹھائے گئے ہیں کہ کوئی تو آخری سہارا ہونا چاہیے بچوں کو تقویت دینے کی ضرورت ہے بہتر پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے اچھے ، مفید ، صحت مند ہوں تو پاکستان آگے بڑھے گا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ جاری کی کہ قائمہ کمیٹی صحت کی چیئرپرسن سینیٹر خوش بخت شجاعت فوری طورپر اس معاملے کو کمیٹی میں زیر بحث لائیں اورتمام محرکین کو اس میں مدعو کیا جائے۔

 

: