سلطان سکندر نے ہر مشکل وقت میں کشمیریوں کا ساتھ دیا تحریک آزادی کی رہنمائی اور معاونت کی،کشمیر ضرور آزاد ہوگا اور اس کی آزادی میںسلطان صحافت سلطان سکندر کا کردار سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، اہل کشمیر کے نباض ہیں تو دوستوں کے دوست بھی ہیں،دوستوں کے ساتھ ناراضگی میں بھی پیار چھپا ہوتا ہے ،تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے سلطان سکندر کی صحافتی خدمات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے مقررین کا خطاب

 

اسلام آباد:سلطان سکندر ، نوائے وقت اور نیشن نے ہر مشکل وقت میں کشمیریوں کا ساتھ دیا تحریک آزادی کی رہنمائی اور معاونت کی،کشمیر ضرور آزاد ہوگا اور اس کی آزادی میںسلطان صحافت سلطان سکندر کا کردار سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔آزادی کے حوالے سے ان کی جدوجہد کشمیر کی 12 ویں قرارداد ہے۔سلطان سکندر اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں وہ کشمیریوں کے دلوں میں بستے ہیں اور تحریک آزادی کے حوالے سے ان کی خدمات ناقابل فرامو ش ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے روزنامہ نوائے وقت اور سلطان سکندرکی تحریک آزادی کے لئے صحافتی خدمات کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب کا اہتمام پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے سیکرٹری اطلاعات ارشاد محمود اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے مشرکہ طور پر کیا تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے راہنماسید ظفر علی شاہ نے کہا کہ کشمیر کی پالیسی قومی پالیسی ہے۔کوئی بھی سیاسی جماعت یہ جرات نہیں کر سکتی کہ کشمیر پالیسی کے خلاف بات کرے یا اس مسئلے کو پس پشت ڈال دے۔ کشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو جاری ہے۔ دنیا کی خاموش کی ٹوٹ رہی ہے ۔ حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن وقت قریب ہے کشمیر کی آزادی کی تحریک منطقی انجام تک پہنچے گی۔ کشمیر کی تاریخ میں سلطان سکندر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
تقریب میں وزیر حکومت آزاد کشمیر احمد رضا قادری، رکن قانون ساز اسمبلی سردارصغیر چغتائی، حریت رہنما سید یوسف نسیم، کشمیر کونسل یورپ کے صدر علی رضا سید، سردار محمد صدیق، صحافی رہنما، حاجی نواز رضا،افضل بٹ، مرتضے درانی، حریت رہنما عبدالحمید لون، محسن رضا،محمود گردیزی، پرویز شاہ ایڈوکیٹ، پی ٹی وی کے صفدر گردیزی، سنیئر صحافی ارشد عزیز ،روزنامہ نیل فیری کے چیف ایڈیٹرنعیم حیات، ایڈیٹرنثار کیانی، چیف ایڈیٹر کونٹری نیوزسردار حمید خان،روزنامہ پارلیمنٹ ٹائمز کے چیف ایڈیٹر جاوید اقبال چوہدری، ایڈیٹر روزنامہ کشمیر ٹائمز عابد عباسی ،مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما راجہ لطیف حسرت،جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار احمد ،پی ٹی آئی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ منصور، عنبرین ترک، پی ٹی آئی کے مرکزی ڈیٹی جنرل سیکرٹری سردار مرتضی علی، نوجوان رہنما فوائد اسلم خان، اور ممتاز نعت خوان نورمصطفے نورانی سیمت درجنوں ممتاز شخصیات نے اظہار خیال کیا اور سلطان سکندر کی پچاس سالہ صحافتی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
احمد رضا قادری نے کہا کہ سلطان سکندر اہل کشمیر کے نباض ہیں۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زمہ داری میں توازن برقرار رکھا اور ذاتی تعلق کو بالائے طاق رکھ کر صحافتی ذمہ داری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔میرا اور ان کا تعلق استاد اور شاگرد کا ہے۔انہوں نے دوستوں کو ہمیشہ باہم جوڑا ہے ۔ ان میں یہ خوبی ہے کہ جتنے بھی ناراض ہوں دوستوں کو مشکل میں تنہاء نہیں چھوڑتے۔بقول شاعر دوستوں کے درمیاں وجہ دوستی ہے تو۔
مسلم کانفرنس کے راہنما اور رکن اسمبلی سردار صغیر چغتائی نے کہا کہ نظریاتی صحافت کے فروغ کے لیے سلطان سکندر نے صف اول کا کردار ادا کیا اور انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے قلمی جہاد کیا۔ان کی صحافت میں تحریک آزادی کے لئے ایک رہنمائی ہوتی ہے۔
سینئرصحافی سلطان سکندر نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے،حالات پریشان کن ہیں ، حکومت مسئلہ کشمیر پر موثر آواز اٹھا رہی ہے اور نہ آزاد کشمیر کی قیادت اور حکومت کو موقع دیا جا رہا ہے، پاکستان کے اور زآزادکشمیرکے اندر داخلی سطح پر اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے،قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کو مضبوط اور با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ایل او سی پر پاکستان کے بڑے لیڈر بھی نہیں جارہے اور کشمیری قیادت کو بھی نہیں جانے دیا جارہا۔
حریت راہنماسید یوسف نسیم نے کہا کہ سلطان سکندر نے جس طرح کشمیر کی پاکستان کے لئے اہمیت کو سمجھا،کاش پاکستان کے حکمران بھی اس طرح سوچتے اور سمجھتے،ان کو صحافت میں بے مثال عزت ملی،آج صحافت میں ان کی کمی محسوس کی جا رہی ہے،ان کے ادارے نے کشمیر کے لئے بہت کام کیا۔ان کی غیر جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا کے ان کا کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکائو ہے۔ ان کی صحافت کے علاوہ ان کی سماجی وابستگی بھی بڑی اہم رہی۔نوائے وقت ، نیشن ، جناب مجید نظامی اور سلطان سکندر کی رہنمائی اور معاونت ہمیں ہمیشہ حاصل رہی ۔ انہوں نے دولت نہیں محبتیں تقسیم کیں اور محبتیں وصول کیں۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری ابرار احمد نے کہا کہ سلطان سکندر سے میرا تعلق ایک سال پرانا ہے لیکن یہ صدیوں پرانا لگتا ہے۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ سلطان سکندر نے درست انداز میں کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کیا،کشمیر کے حوالے سے حقائق کو جس بے باکانہ انداز میں پیش کیا وہ آج کل کے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہے،انہوں نے آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت اور عوام سے گہرا رابطہ رکھا، ان کو اپنے تجربات پر کتاب لکھنی چاہیے
کشمیر کونسل یورپ کے صدر علی رضا سید نے کہا کہ انہوں نے صحافت میں غیر جانبدار کردار ادا کیا اور ہمیشہ سچ لکھا۔امید ہے وہ کشمیر کے لئے بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان کے کشمیری عوام اور آزادی کشمیر کے لئے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سینئر حریت رہنما عبد الحمید لون نے سلطان سکندر کی تحریک آزادی کشمیر کے لئے خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ترجیح اول دی۔ تقریب کے میزبان ارشاد محمود نے کہا کہ سلطان سکندر نے آزاد کشمیر کی سیاست کو 1985 سے کور کیا،وہ طویل عرصے سے گہرائی کے ساتھ کشمیر کے حالات پر لکھتے رہے، آپ نے پیشہ ورانہ زمہ داریوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، تحریک آزادی کشمیر اور آزاد کشمیر کی سیاست پر آپ کی رپورٹنگ، تبصروں اور تجزیوں نے عوام میں بہت مقبولیت حاصل کی، کشمیری قیادت اور عوام کے ساتھ آپ کا تعلق انتہائی گہرا ہے۔آپ نے آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم سردار قیوم مرحوم کے ہمراہ بھارت کا دورہ بھی کیا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر ،سینئر صحافی حاجی نواز رضا نے کہا کہ سلطان سکندر کی کشمیر پر ایک اتھارٹی کی حیثیت ہے،ان کا کشمیر کے ساتھ گہرا تعلق ہے،انہوں نے کشمیر پر بہت محنت کی،کسی صحافی کو ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی سلطان سکندر کو ملی،وہ ایک دیانتدار اخبار نویس کے طور پر پہچانے جاتے ہیں،نظریہ پاکستان اور کشمیر کی آزادی پر کبھی بھی سمجھوتے نہیں کیا
پی ایف یو جے کے سابق صدرافضل بٹ نے کہا کہ سلطان سکندر کا صحافتی کردار نئے آنے والے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہے،انہوں نے کشمیر کے ساتھ دوستی کی اور نبھائی، مرتضی درانی نے کہا کہ انہوں نے صحافت کے اصولوں پر عمل کیا اور صحافت کا معیار بلند کیا، لطیف حسرت نے کہا کہ آپ کو صحافت میں اہم خدمات ادا کرنے کی وجہ سے مجاہد اول سردار عبد القیوم خان نے سلطان صحافت کا خطاب دیا،آپ نے دیانتداری سے صحافت کی، میں کافی کوشش کے باوجود ان سے فرمائشی ڈائری نہیں لکھوا سکا۔تقریب کی میزبانی کے فرائض ارشاد محمود نے ادا کیے۔