
اسلام آباد:
قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام سزائے موت کی قرارداد کی دو حکومتی وزراء نے مخالفت کر دی، اس قرارداد کی مخالفت کرنے والے وزراء میں فواد چودھری اور شیری مزاری شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی اس کی مخالفت کی تھی۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی سے متعلق قرارداد کی بھرپورمذمت کرتا ہوں۔ ایک بیان میں انہوں نے اپنی جماعت کی جانب سے پیش کی گئی بچوں سے زیادتی اورقتل کے مجرموں کوسرعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑسکتے جب کہ یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج اسمبلی میں جو قرارداد آئی وہ حکومت کی طرف سے نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں ریپ کی سزا موجود ہے، لوگوں کو کوئی تبصرہ کرنے سے قبل موجودہ قوانین پر نگاہ دوڑانی چاہیے، مسئلہ صرف اس سزا کے اطلاق اور انصاف کی تیز فراہمی کا ہے، جس پر ہم اب توجہ دے رہے ہیں۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد انفرادی طور پر پیش کی گئی تھی، مجھ سمیت کئی لوگ اس قرارداد کے خلاف ہیں، وزارت انسانی حقوق اس قرار داد کی مخالفت کرتی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج وہ ایک میٹنگ کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکی تھیں۔




