اصول ،دیانت، صداقت اور شرافت کا دوسرا نام میر شکیل الرحمان بمقابلہ جھوٹے اور اناپسند حکمران

 

 

پاکستانی صحافت کے آغاز ہی سے ایک اہم اور معتبر نام بانیِ روزنامہ جنگ میر خلیل الرحمان صاحب پاکستانی صحافت کا ایک اہم اور روشن ستارے کی مانند ہیں جنہوں نے صحافت کو عبادت سمجھ کر اپنے آپ کو پاکستان کے لیے وقف کر دیا اور آخری سانس تک اِس کا دفاع کیا وہ پاکستان میں ایک استاد اور محقق کا درجہ رکھتے تھے مرحوم میر خلیل الرحمان صاحب کے تمام کارناموں کو ایک طرف رکھ کر صرفِ اور صرفِ ایک ہی کردار پر بات کی جائے کہ جب 1965 میں پاکستان کا مکار دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں مملکتِ خدا داد پاکستان پر حملہ کیا پاکستان کی بہادر افواج اور عوام نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا اور بھارت کو عبرتناک شکست دی پاکستانی عوام کا مورال بلند کیا پاکستانی عوام کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا عرضِ پاکستان کی سلامتی پر اپنا بھرپور کردار ادا کیا تو اس وقت یہ روزنامہ جنگ اسِ کی انتظامیہ اور کارکن ہی تھے اور اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما تھا وہ میرخلیل الرحمان صاحب جیسی شخصیت ہی تھی کہ پاکستانی قوم کو متحد کیے رکھا میرے خلیل الرحمن صاحب یہ اشعار اپنی صحافتی زندگی میں اکثر پڑھا کرتے تھے 1
– بے وفاں سے وفا کرنے میں گزری ہے حیات 2-
میں برستا رہا ویرانوں میں بادل کی طرح3-
ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق 4
– یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
5- ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
6- جو دل پہ گزری ہے رقم کرتے رہیں گے
7- اِک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
8- اِک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
آج ان ہی کے لختِ جگر میر شکیل الرحمان صاحب پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ پاکستانی صحافت کا روشن ستارہ جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر ان کی گرفتاری ریاستی جبر کی مثال ہے میں جنگ جیوں گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان صاحب کی غیرقانونی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مزمت کرتی ہو اور میر شکیل الرحمان صاحب کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہو اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتی ہو میر شکیل الرحمان سے حکومت وقت نے ایک بہت بڑا ظلم یہ کیا کہ ان کے برادرِ اصغر میر جاوید الرحمان سے زندگی کی آخری ملاقات بھی نہ ہونے دے گئی بڑا بھائی ہسپتال میں اپنے چھوٹے بھائی سے ملنے کے لیے تڑپتا رہا کہ ایک دفعہ چھوٹے بھائی کا منہ دیکھ لو اور جی بھر کر اس سے باتیں کر لو۔ حکومتِ وقت کو اس بات کا بھی پتا تھا کہ میرجاوید الرحمان صاحب کی صحت اچھی نہیں ہے بیماری سنگین ہے ان کا مزید زندہ رہنا محال ہے لہذا اپنے چھوٹے بھائی سے ملاقات کی اجازت دی جائے لیکن حکومت وقت نے ایسا نہ کیا اس کی زندہ اور جاوید مثال یہ ہے کہ عمران خان اپنے جلسوں اور تقاریر میں یہ بات اکثر کہا کرتے تھے کہ میر شکیل الرحمن میں نے تمہیں نہیں چھوڑنا میں جب اقتدار میں آئوں گا تمھیں گرفتار کرونگا ۔
عمران خاننے عناد پر مبنی سوچ کے مطابق اپنا وعدہ پورا کرکے دکھایا اور اسِ طرح آج سے 35 سال پرانے نام نہاد مفروضے پر انہیں گرفتار کر کے پابند سلال کر دیا۔ پاکستانی صحافت کا بڑا نام ریاستی جبر کا شکار ہے میر شکیل الرحمان کس شخصیت کا نام ہے یہ ایک الگ داستان ہے لیکن میر شکیل الرحمان صاحب کی صحافت کے ساتھ یکسوئی کی ایک زندہ مثال اسِ طرح ہے جب پانامہ کی خبر کو بریک کیا گیا تو تقریبا پانچ 500 سو پاکستانیوں کے نام اس میں شامل تھے پاکستان میں جس صحافی نے یہ خبر بریک کی اس کا نام عمرچیمہ تھا اور عمر چیمہ کا تعلق جنگ گروپ سے تھا اس پانامہ لیک کی خبر میں ایک نام میر شکیل الرحمان کا بھی تھا اب مسئلہ یہ پیدا ہوگیا کہ اپنے اخبارات میں Editor-in-Chief کا نام کیسے شائع کریں عمر چیمہ صاحب نے یہ اہم مسئلہ The News کے سینئر صحافی انصار عباسی صاحب کے ساتھ ڈسکس کیا تو انصار عباسی صاحب نے عمر چیمہ صاحب کو کہا کہ فوری طور پر اس معاملے پر میرشکیل الرحمان صاحب سے رابطہ کیا جائے جو اس وقت بیرونِ ملک میں تھے جب میر شکیل الرحمان صاحب سے یہ مسئلہ شیئر کیا گیا تو انہوں نے عمرچیمہ کو کہا کہ پانامہ کی پوری سٹوری کو من و عن اسی طرح شائع کیا جائے جس طرح وہ ہے اگرچہ میرا نام اس میں موجود ہے تو میں اپنی وضاحت پیش کروں گا تو پھر پاکستانی عوام کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ جنگ اور دی نیوز میں جو پانامہ کی سٹوری پبلش ہوئی تو اس میں میر صاحب کا نام موجود تھا اگرچہ ان کی جگہ کوئی اور آدمی ہوتا تو وہ ایسا کبھی نہ کرتا لیکن میر شکیل الرحمان نے اصول کو نظر انداز نہیں کیا اسِ لئے میں یہ بات فخر سے کہہ سکتی ہوں میر شکیل الرحمان اصول دیانت صداقت اور شرافت کا نام ہے جب آپ صحافت اور ادب پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں بہت سیاہم نام ملتے ہیں جو اپنے اپنے وقت میں ریاستی جبر کا شکار ہوئے ہیں مثلا معروف رومانوی شاعر Wordsworth کی انگریزی ادب کی لازوال کتاب اس نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تحریر کی انگریزی ادب کا ایک اور کلاسک نام . .Don Quixoteجس کا مرکزی کردار سپین کی سڑکوں پر سرگرداں نظر آتا ہے کسے معلوم تھا کہ Cervantes نے یہ ناول جس وقت لکھا اس وقت وہ جیل میں تھا۔اسی طرح معروف شاعر Ezra Pound کے Pisan Cantos بھی Pisa میں لکھے گئے کہ جب اسے میسولینی کے حق میں بولنے کی پاداش میں کتابوں اور آزادی سے محروم کردیا گیا تھا انگریزی کہانی کاروں میں ایک اور بڑا نام O Henry کا ہے Who had to go to jail on report of federal Adit جسے بنک میں ملازمت کے دوران فیڈرل آڈٹ کی رپورٹ پر جیل جانا پڑا تھا کہتے ہیں جیل کی اس تنہائی میں اس نے 14 بہترین کہانیاں تخلیق کیں۔Marco Polo کے معروف سفرنامے ہم تک نہ پہنچتے اگر وہ جیل کی کوٹھڑی میں نہ رہتا یہاں وہ اپنے ساتھی قیدی کو اپنے سفر نامے کے احوال سنایا کرتا تھا اور اسِ کا ساتھی قیدی انِ احوال کو قلم بند کرتا رہتا تھا بعد میں یہ کتاب The Travels of Marco Polo کے نام سے شائع ہوئی Oscar wilde irish poet شاعری ناول نگاری کہانی نویس اور ڈرامہ نگاری میں اپنا لوہا منوا چکا تھا اور ایک مقدمہ کے نتیجے میں جیل میں تھا جہاں اس نے جیل کے دنوں کی فرصت کا فائدہ اٹھایا اور ایک طویل ترین خط Prosundis De lord Alsred Douglasکے نام لکھا جو بعد میں Prosundis and other the person writings کے نام سے شائع ہوا انگریزی ادب میں ایسی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جو جیل کی تنہائی میں لکھی گئی ایک اور مثال Bertrand Russell کی ہے جنگ اور سامراج کے خلاف اپنی واضع پوزیشن کی وجہ سے ہمیشہ اہلِ اقتدار کو کھٹکتا رہا اسِ کے لئے انہیں جیل بھی جانا پڑا جہاں انھوں نے اپنی معروف کتاب Introduction of Mathematica Philosophلکھی ۔یہ 1918 کی بات ہے جب وہ اپنے باغی خیالات کی وجہ سے جیل کاٹ رہا تھا اِس نے تاریخی جملہ کہا تھا I found Person in Many Ways Quiet Agreeable i hand no Engagements on difficult decisions to make on sear of callers on interruptions to my work انگریزی ادب سے ہٹ کر کئی سیاسی رہنمائوں کی تخلیقات جیل کے دنوں میں ہوئی جب انہیں تنہائی فرصت اور سکون میسر تھا اِس فہرست میں سرِ فہرست جنوبی افریقہ کے Nelson Mandela جنہوں نے 27 برس قید کاٹی اور بعد میں اپنے ملک کے صدر بھی بنے قید کے دوران انھوں نے اپنی کتاب Conversations with my self لکھی۔ اسِی طرح جواہرلال نہروں نے قید کے دوران اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو اقوامِ عالم کی سیاست کے حوالے سے خطوط لکھے جو بعد میں ،Glimpses of world history ,کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ پاکستان میں زولفقار علی بھٹو نے جیل میں Is i am Assassinated کے نام سے کتاب لکھی اور اپنی بیٹی بینظیر بھٹو کے نام ایک طویل خط تحریر کیا جو My beloved Daughter کے نام سے شائع ہوا ۔ کالا پانی میں قید کے حوالے سے جعفر تھانیسری کی کتاب کالا پانی شائع ہوئی اِسی طرح حسین احمد مدنی نے سفر نامہ اسیرِ مالٹا کے نام سے ان دنوں کا احوال لکھا حضرت مولانا محمود الحسن قید میں تھے حسرت موہانی کی کتاب مشاہداتِ زنداں جیل کی تنہائی میں لکھی گئی چوہدری افضل حق کا میرا افسانہ جیل میں لکھا گیا مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کا ایک حصہ جیل میں مکمل کیا۔ الطاف گوہر نے تفہیم کے کچھ جلدوں کا انگریزی ترجمہ بھی جیل میں کیا ۔شورش کاشمیری کی کتاب پسِ دیوارِ زنداں جیل کی روداد ہے فیض احمد فیض کی زنداں نامہ اور دستِ صبا دورِ اسیری کی یادگار ہیں ۔ابراہیم جلیس کی جیل کے دن اور جیل کی راتیں اور حمید اختر کی کال کوٹھری بھی جیل میں تحریر کی گئی نعیم صدیقی کی جیل کی ڈائری اورشاعری کی کتاب شعلہ خیال اسیرِی کے زمانے میں لکھی گئی اسیِ طرح یوسف رضا گیلانی کی کتاب چاہ یوسف اور جاوید ہاشمی کی ہاں میں باغی ہوں جیل میں تحریر کی گئی کہتے ہیں تنہائی جس کا تعلق اکثر کرب اور اضطراب سے جوڑا جاتا ہے بعض اوقات امکانات کے نئے در وا کرتی ہے جس میں ایک امکان تخلیق کی ثمر آوری کا ہے۔
ان تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے امید واثق ہے کہ میر شکیل الرحمان کا عوام کو سچ بتانے اور حکمرانوں کو آئینہ دکھانے عزم جیل کی سختیوں اور تنہائی میں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا اور حق او سچ کو دبانے کے حکمرانوں کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

رفعت عباسی پریزیڈنٹ پی ایم ایل این کلچرل ونگ راولپنڈی ڈویژن