سی پیک کے ابتدائی منصوبوں سے ملک میں 85 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے

 

اسلام آباد:نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے پاپولیشن (این آئی پی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی 2019ء میں 211.17 ملین ہے۔ سی پیک کے ابتدائی منصوبوں سے ملک میں 85 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے ابتدائی تخمینے کے مطابق مالی سال 2019-20ء کی آخری سہ ماہی کے دوران ملازمتوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جمعرات کو وفاقی حکومت کی طرف سے جاری اقتصادی جائزہ 2019-20ء کے مطابق آبادی افرادی قوت اور روزگار کے اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے پاپولیشن کے تخمینہ کے مطابق 2019ء میں آبادی 211.17 ملین ہے۔ یہ ڈیٹا این آئی پی ایس نے جو 2016ء میں پروجیکشن کی تھی اس کے مطابق ہے۔  2017ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 207.77 ملین تھی جس کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفکیشن کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔ این آئی پی ایس کے مطابق آبادی 2019ء میں اضافے کی شرح 1.94 فیصد اور کل شرح نمو 3.3 فی خاتون ہے۔ یوتھ انٹر پرنیور شپ سکیم کے تحت حکومت نے نوجوانوں کے کاروبار کے لئے 465 ملین روپے دسمبر سے مارچ 2020ء تک قرض کی مد میں تقسیم کئے۔ سی پیک کے ابتدائی منصوبوں سے ملک میں 85,000 سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ پائیڈ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق 2019-20ء کی آخری سہ ماہی میں کوویڈ 19 ملازمتوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اگر محدود پیمانے پر لاک ڈائون کیا گیا تو 1.4 ملین لوگوں کی ملازمتیں چلی جائیں گی۔ درمیانے درجے کے لاک ڈائون میں 12.3 ملین اور مکمل لاک ڈائون کی صورت میں 18.53 ملین لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ پاکستان پاورٹی ایلیوشن کے تحت احساس پروگرام کے ذریعے جولائی تا مارچ 2020ء تک 21.4 بلین روپے بغیر سود کے قرضوں کی مد میں تقسیم کئے۔ تارکین وطن کی تعداد 2018ء میں 382,439 تھی جو کہ 2019ء میں بڑھ کر 625,203 ہو گئی۔