3195 ارب روپے خسارے کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ، کل حجم 7294.9 بلین روپے جو گزشتہ مالی سال کے بجٹ تخمینہ جات سے گیارہ فیصد کم ہے

 

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے مالی سال 2020/21 کیلئے وفاقی بجٹ قومی اسمبلی و سینٹ میں پیش کر دیا ہے ۔ بجٹ کا کل حجم 7294.9 بلین روپے ہے اس میں 3195 ارب روپے کا بجٹ خسارہ ہے جو گزشتہ مالی سال کے بجٹ تخمینہ جات سے گیارہ فیصد کم ہے۔ آئندہ مالی سال میں مالی وسائل کی دستیابی کا تخمینہ 6314.9 بلین کا لگایا گیا ہے۔ جبکہ صوبوں کا حصہ 2873.7 ارب روپے ہوگا۔ بیرونی ذرائع سے وصولی کا تخمینہ 2222 ارب روپے لگایا گیا ہے۔وصولیوں میں ایف بی آر کاہدف 4963 بلین روپے ، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1109 ارب روپے ، آئندہ مالی سال میں 889ارب روپے اور نجکاری سے ایک سو ارب روپے حاصل کرنے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں جو اخراجات کئے جائیں گے ان میں سود کی ادائیگی کیلئے 2946 ارب روپے ، پنشن کی ادائیکی کے لئے 470 ارب روپے ، دفاعی اخراجات 129 ارب روپے ، سیسڈیز کی مد میں 209 ارب روپے اور سول حکومت کو چلانے کے لئے 476 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لئے کوئی رقم بجٹ میں نہیں رکھی گئی۔ آئندہ مالی سال میں وفاق سے جو وسائل صوبوں کو منتقل کئے جائیں گے ان میں 1439ارب روپے پنجاب کو ، 742  سندھ کو ،470.5ارب روپے کے پی کے کو اور 265ار ب روپے بلوچستان کو دئیں جائیں گے۔ گیس ترقیاتی سرچارج 15.8ارب روپے ، قدرتی گیس کی رائلٹی پر 52.7ارب روپے، خام تیل کی رائلٹی پر 23.1ارب روپے منتقل کرے گی ۔ سود کی ادائیگی کیلئے جو رقم مختص کی گئی ہے اس میں ملکی قرضوں کی سود کی ادائیگی پر 26.31ارب روپے اور غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر 315.1ارب روپے خرچ کرے گی۔ پنشن کے لئے 470 ارب روپے رکھے گئے ہیں اسمیں سے ریٹائر فوجیوں کی پنشن کیلئے 369 ارب اور سول کے لئے 111 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سبسڈیز کے لئے جو رقم مختص کی گئی ہے اس میں سے 124 ارب روپے واپڈا اور کیپکو کو دئیے جائیں گے اس رقم کی تقسیم میں ایک سو دس ارب روپے انٹر ڈسکو ٹیرف اور دس ارب روپے کے پی کے انضمام شدہ اضلاع اور ایک ارب روپے آزاد کشمیر میں ٹیرف میں فرق کی مد میں دئیے جائیں گے۔ کے ای اسی او کو 25.5 ارب روپے کی سبسڈی ملے گی ، یوٹیلٹی سٹو ر میں سبسڈی کی مد میں تین ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ پاسکو کے لئے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں سے ویٹ آپریشن کی مد میں دو ار ب روپے اور گندم کے محفوظ سٹاک کیل ئے پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔اس بار فاٹا کو گند م کی فروخت کیلئے کوئی سبسڈی نہٰیں رکھی گئی۔ گلگت بلتستان کو گندم کی سبسڈی کے لئے چھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ میڑو بس کی سبسڈی کیل ئے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اینگرو اور فاطمہ کھاد پلانٹس کو چھ ارب کی سبسڈی دی جائئے گی ، نیا پاکستان کے لئے تیس ارب روپے دئیے جائین گے۔مسابقتی کمیشن کو پچیس کروڑ روپے ، پاکستان ریلوے کو اپنے نقصانات کی مد میں چار ارب روپے دئیے جائیں گے۔ پبلک پرائیوٹ شراکتی اتھارٹی کے لئے دس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کو بتیس ارب کی گرانٹ دی جائے گی۔ بیت المال کو چھ ارب روپے ۔ بی آئی ایس پی کیلئے دو سو ارب روپے ، پاکستان پوسٹ کو 3.5 ارب روپے گرانٹ دی جائے گی۔ این ڈی ایم اے کو پانچ ارب کی گرانٹ ملے گی۔ بجٹ میں 3195ارب کا خسارہ ہے جو جی ڈی پی کا سات فیصد ہوگا۔اس میں سے 2384 ارب روپے اندرونی فناسنگ کے ذریعے لئے جائیں گے۔ 1229 ارب روپے لانگ ٹرم غیر ملکی قرضوں سے پورے کئے جائیں گے ۔ 184 ارب کے قلیل مدت غیر ملکی قرضے لئے جائیں گے۔