چھ ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کرنے والےاسے چار سال میں بھی نہ بنا سکے جون 2021 کی نئی تاریخ آگئی

میں بی آر ٹی کے حق میں نہیں ہوں، یہ بالکل نہیں بنانی چاہیے تھی۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ بی آر ٹی کے حق میں نہیں ہیں، ان کے مطابق یہ نہیں بننی چاہیئے تھی۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی کو مکمل ہونے دیں، اس کا بھی آڈٹ ہو گا، اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی تو میں اس پر بھی کہوں گا کہ کرپشن ہوئی اور غلط ہوا ہے۔
دوسری جانب بی آر ٹی پشاور منصوبہ خیبرپختونخواہ حکومت کیلئے درد سر بن گیا، منصوبے کی کل لاگت میں مزید 2 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، منصوبے کی لاگت 71 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی بی آر ٹی کیلئے مزید 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ بتایاکہ دستاویز کے مطابق پیسے منصوبے میں اضافی اخراجات کی مد میں رکھے گئے ہیں۔
اضافی رقم سے مسافروں کو کرایہ پر سبسڈی دینے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہوں، پیٹرول، صفائی، سیکورٹی اخراجات بھی پورے کیے جائیں گے۔ دوسری جانب چیف ایگزیٹو آفیسر ٹرانس پشاور فیاض خان نے بتایا کہ بجٹ میں بی آر ٹی منصوبے کے لیے رقم رکھی گئی ہے جب کہ پلازے ابھی تعمیر نہیں اس لیے آمدن کم ہوگی۔ فیاض خان نے بتایا کہ پیسے عوام کو سہولت فراہم کرنے کیلیے رکھے گئے ہیں، پراجیکٹ شروع کرتے وقت آمدن کم ہوتی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ کورونا وباء کے باعث آمدن میں مزید کمی کا امکان ہے جبکہ کورونا ایس او پیز کے تحت بس چلانے سے آمدن کم ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے صوبائی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبہ ممکنہ طور پر جون 2021 میں مکمل ہوگا۔ یوں اس منصوبے کی تکمیل 4 سال کے طویل عرصے میں ممکن ہو پائے گی۔ جبکہ ابتدائی طور پر منصوبے کو صرف 6 ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد منصوبے کی تکمیل کی مختلف تاریخیں دی جاتی رہیں، اور اب ایک نئی تاریخ دے دی گئی ہے۔

