
اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان 100 ملین ڈالر کے کووڈ 19 سے متعلقہ اشیاء برآمد کر رہا ہے اور مقامی طور پرو ینٹی لیٹر کی تیاری کے بعد اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ 10 وینٹی لیٹرز کا پہلا بیج این آر ٹی سی نے تیار کر لیا ہے۔وزیر اعظم لاہور سے واپسی پر وہ پیج این ڈی ایم اے کے حوالے کرے گے۔وینٹی لیٹرز کے لیے تین اور ادارے اپنی مینوفیکچرنگ شروع کر رہے ہیں۔60 سے 90 روز میں پاکستان میں وینٹی لیٹرز کی مینوفیکچرنگ شروع ہوجائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ 300 انجینرز کے والینٹئیرز کا گروپ ہے جسے وزارت کا بھی تعاون حاصل ہے وہ ہسپتالوں کو وینٹی لیٹرز چلانے کے لیے ٹریننگ دیں گے۔انہوں نے کہا 300 وینٹی لیٹرز ہسپتالوں میں پڑے تھے ان کو چلانے کی ٹریننگ اسی گروپ کی طرف سے دی گئی۔انہوں نے کہا 5 مارچ کو ہینڈ سینٹائزز کی قلت ہوگئی تھی ۔ڈیفنس پروڈیکشن, پی ای سی اور نسٹ سمیت دیگر یونیورسٹیز سے ہم نے پروگرام شروع کیا اورآج ہم کووڈ میٹریل کی 100 ملین کی ایکسپودٹ کر رہے ہیں وینٹینکیٹرز آنے سے اس میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا چین سے آنے والے سامان میں کوالٹی کے مسائل تھے لیکن ہمارا کام انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ڈریپ کے پاس 2 اور ٹیسٹنگ کٹس آئی ہیں ایک لوکل کمپنی کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔یہ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جس نے 45منٹ میں رزلٹ دینے والی کٹ منظودی کے لیے بھیجی ہے۔منظوری کے لیے آپ کو 300 ٹیسٹ لیبارٹری اور 500 فیلڈ میں کرنے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا پی سی آر کی بنیاد پر نسٹ کی کٹ کو منظوری مل گئی ہے جو جمعرات سے کمرشل بنیادوں ہر بننا شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا ہم پی پی ایز ہم پاکستان میں خود بنا رہے ہیں فیصل آباد ٹیکسٹائل یونیٹورسٹی کو اس حوالے سے خودمختار کر دیا ہے۔ سرجیکل ماسک کے کم از کم 15 ٹیسٹ ہیں جو ہونے چاہیں
این 95 ماسک بھی پاکستان میں بننا شروع ہوگئے ہیں جس کے 18 ٹیسٹ ہیں۔انہوں نے کہا پی ایس کیو سی اب اس کو یورپی اور امریکن سٹینڈرڈ کے ساتھ بھی جوڑ رہا ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ کووڈ سے متعلق وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے دیگر وزارتوں سے مل کر ایک ویب بنائی تھی۔اب ہم نجی سیکٹر کو بھی دعوت دت رہے ہیں وہ آئیں بنائیں اور بیچیں۔


