کشمیر کی آزادی ترقی اور خوشحالی میرا مشن ہے اس کے لئے ہمارے خاندان نے بہت قربانیاں دیں پارٹی کی تنظیم سازی میں تاخیر اور پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرنے پر تشویش ہے،خولہ خان

اسلام آباد(محمدرضوان ملک) خان آف منگ کی صاحبزادی تحریک انصاف کی بانی رکن اور اسلام آباد ریجن کی سابق صدر کشمیری رہنماء خولہ خان نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اب دنوں کی بات رہ گئی ہے مودی کی بھارت کا وہ گھر کا بھیدی ہے جو لنکا ڈھائے گا۔سیاست کے لئے پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری ترجیح ہے عمران خان کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا ،پارٹی کی تنظیم سازی میں تاخیر اور پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرنے پر تشویش ہے۔کامیابی کی صورت میں وزارت تعلیم میری پہلی ترجیع ہوگی،کشمیر کی آزادی ترقی اور خوشحالی میرا مشن ہے اس کے لئے ہمارے خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ‘نوائے وقت ‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ پورے پاکستان میں مہاجرین کی 12 نشستیں ہوتی ہیں اور میں جموں 6 سے الیکشن لڑنے کی خواہشمند ہوں اور ا س کے لئے کام بھی کر رہی ہوں میری کمپین ڈور ٹو ڈور جاری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں 6 سے لڑنے کی ان کی خواہش ہے تاہم پارٹی کا فیصلہ حتمیٰ ہو گا اور وہ پارٹی پالیسی کی پابندی کریں گی۔ پچھلے الیکشن میں ن لیگ کی دھاندلی کے باعث ہمیں شکست ہوگئی تھی تاہم اس بار جیت یقینی ہے۔ خولہ نے بتایا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف خواتین ونگ کی بانی رکن ہیں اور دھرنے میں پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ وزارت تعلیم لینا چاہیں گے اور ان کی پہلی ترجیع خواتین کو تعلیمی میدان میں آگے لانا ہوگا۔انہوں نے کہا میں مرکز سے عہدہ بھی لینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا میرا پارٹی سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد پارٹی کی تنظیم سازی کی جائے تاکہ کام کیا جاسکے کیونکہ الیکشن میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔ اس تاخیر سے پارٹی کو نقصان ہورہا اور گروپ بندی ہورہی ہے۔ اس تاخیر سے ایکٹو لوگ بھی گھر بیٹھ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا سیاست کے لئے پی ٹی آئی میری پہلی اور آخری ترجیح ہے اور عمران خان کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے میں ان کی بہت بڑی پرستار تھی اور ہوں۔ قبل ازیں میں طلباء سیاست میں حصہ لے چکی ہوں۔ ہماری پارٹی کا بنیادی مقصد تمام افراد کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا ہیں۔جب بیرسٹر سلطان صاحب پارٹی کے صدر بنے تو میں نے کشمیر سے پارٹی کو جوائن کیا۔کشمیر کی آزادی ترقی اور خوشحالی میرا مشن ہے اس کے لئے ہمارے خاندان نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ معروف کشمیر رہنماء خان آف منگ کرنل خان محمدخان کی صاحبزادی ہیں جنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے عملی جہاد کیا اور ڈوگروں کو مار بھگایا۔دوسری جنگ عظیم میں اٹلی میں حصہ لیا ۔سدھن قبیلے کی ایک تاریخ ہے انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد کیا اور زندہ کھالیں کھنچوائیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئے لوگ آنے کے بعد پارٹی نے پرانے نظریاتی لوگوں کو نظرانداز کیا جس کا مجھے افسوس ہے تاہم ہماری نئی پارٹی تھی اور ہمیں وقت کی ضرورت کے تحت نئے لوگوں کو ساتھ چلانا پڑا۔جن لوگوں نے ناممکن کو ممکن بنایا اور پارٹی کے لئے دن رات محنت کی ان کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اور ہم نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ایک ڈیڑھ سال میں تو ہماری پارٹی کو چیزوں کو سمجھنے میں لگا ہے تاہم ملک اب درست ٹریک پر آگیا ہے اور آگے آنے والا وقت بہتر ہوگا۔ کارکردگی دکھانے کے لئے ایک ڈیڑھ سال کم ہے چیزیں بہتر ہورہی ہیں۔معیشت بہتر ہورہی ہے اور اس سال عوام کو تبدیلی نظر آئے گی۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا ملائشیا نہ جاکر کشمیر کاز کو کمزور نہیں کیا وہ لوگ جنہوں نے کشمیر کے معاملے پر آپ کا کھل کر ساتھ دیا آپ نے کسی کے کہنے پر ا ن سے علیحدگی اختیار کر لی انہوں نے کہا خان صاحب نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہوگا۔ ہمیں ان پر اعتماد کامیاب خارجہ پالیسی کے باعث مسئلہ کشمی پر ا و آئی سی کی وزرائے خارجہ کی سطح کا اجلاس اپریل میں پاکستان میں ہونے جارہا ہے۔ آنے والے وقت میں عوام کو تبدیلی نظر آئے گی۔الیکشن میں برادری سے زیادہ پارٹی کو اہمیت دوں گی تاہم مجھے سدھن قبیلے کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے ۔مجھے سدھن قبیلے اور برادری پر فخر ہے ۔سندھن کونسل خواتین ونگ کی چئیرپرسن بھی ہوں۔ پسے ہوئے طبقات کو آگے لانا میری زندگی کا مشن ہے۔ خواتین اور نوجوانوں سے مجھے امید ہے اور وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے
آنے والے دنوں میںد و تین ماہ کے اندر کشمیر سے بڑے بڑے نام ہماری پارٹی کو جائن کریں گے ۔پارٹی سے اپیل کہ 35 فیصد کوٹہ خواتین کے لئے مختص کریں ۔خواتین پی ٹی آئی کا ہراول دستہ ہیں۔عمران سے گزارش کہ انہیں نظر انداز نہ کریں۔مرکز میں بھی نہ ہوسکا یہ غلطی مرکزمیں تو ہوگئی لیکن کشمیر میں اس کو نہ دہرایا جائے۔ انہوں نے کہا ٹکٹ ملے نہ ملے پارٹی کے ساتھ ہوں اور پارٹی پالیسی کو فالو کروں گی۔گزشتہ جماعتوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے مسئلہ کشمیر کو بہتر انداز میں اجاگر کیا ۔مولانافضل الرحمان 13 سال تنخواہ لیتے رہے اور اجلاس ہی نہ کئے ۔جب کشمیر کا مسئلہ پیک پر تھا تو مولانا نے دھرنا کر کے دنیا کی توجہ اس سے ہٹا دیکشمیر کی آزادی کے لئے خود کچھ نہیں کیا اور جب کام ہونے لگا تو اسے سبوثاژ کیا۔ مودی کی حرکتیں اصل میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔ اس کے اس بلنڈر کی وجہ سے آج بھارت سمیت دنیا بھر میں انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔یہ دو ملکوں کا نہیں انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ خد ا اس سے اوپر نیچے غلطیاں کر وار ہا ہے۔گھرکا بھید لنکا ڈھائے گا۔بڑا بھائی اصلی فریق کشمیریوں کو آگے لائے اور بین الاقوامی برادری میں ایک وکیل کا کردار ادا کرے۔

بشکریہ :نوائے وقت