
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ،چیف کمشنر اور آئی جی کو طلب کرلیا، دبائو بڑھنے پر رات گئے مطیع اللہ کو فتح جنگ کے قریب ایک صحرا میں چھوڑ دیا گیا
اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹر سے دن دیہاڑے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد زبردستی اٹھا کر لے گئے۔وکلا و صحافی تنظیموں نے واقعہ کی مذمت کی ہے جبکہ حکومت نے پولیس کو فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج( بدھ کو )سیکرٹری داخلہ،چیف کمشنر اور آئی جی کو طلب کرلیا۔دوسری جانب عدالت عظمی نے بھی آج مغوی صحافی کو طلب کر رکھا ہے۔معلومات کے مطابق سینئر صحافی مطیع اللہ جان اپنی زوجہ کو سکول سے لینے کیلئے سیکٹر جی سکس پہنچے تواس دوران دو نامعلوم گاڑیاں اور ایک پولیس وین ،جنہوں نے یونیفارم بھی زیب تن کر رکھے تھے،نے مغوی صحافی کو زبردستی گاڑی سے اتارا اور اپنے ساتھ بٹھا کر لے گئے۔مطیع اللہ جان کے لاپتہ ہونے پر سوشل میڈیا سمیت پورے ملک میں واقعہ وائرل ہوا تو اس دوران ان کے بھائی شاہد اکبر عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے فوری رجوع کرکے درخواست دائر کی کہ ان کے بھائی کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے،جس کے پیش نظر اسلام آباد ہائیکورٹ نے رجسٹرار آفس کو حکم دیا کہ خصوصی نمائندہ کے ذریعے سیکرٹری داخلہ،چیف کمشنر اور آئی جی کو نوٹسز بھیجے جائیں تاکہ وہ کل عدالت پیش ہوں۔ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے درخواست کو فی الفور منظور کیا جاتا ہے اور یہ مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا مقدمہ ہے اور انتظامیہ پیش ہوکر بتائے کہ کیوں نہ ایسے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بعد ازاں پولیس نے استغاثہ کے بعد مطیع اللہ جان کے بھائی شاہد اکبر کی تھانہ آبپارہ کو دی جانے والی درخواست پر زیر دفعہ 365 مقدمہ نمبر264/20درج کرلیا۔دوسری جانب پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی تنظیموں آر آئی یو جے،پی ایف یو جے اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے معاملہ اٹھایا تو انہوں نے مبینہ طور پر مذکورہ صحافی کو اغوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اس سلسلہ میں فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔یہاں سوشل میڈیا پر مغوی صحافی مطیع اللہ جان کی زوجہ نے ایک پرائیویٹ چینل کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کے شوہر کو آج بدھ کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی طلب کر رکھا تھا کیونکہ انہوں نے ایک ٹوئٹ کیا تھا،چونکہ وہ ٹوئٹ جسٹس فائز عیسی سے متعلق تھا تو اس سلسلے میں22جولائی کو انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی پیش ہونا تھا۔علاوہ ازیں ان کے شوہر ایک جرنلسٹ تھے اور انہیں وقتا فوقتا دھونس و دھمکی کے پیغامات آیا کرتے تھے۔
تاہم رات گئے مطیع اللہ جان کورہا کر دیا گیا۔خاندانی ذرائع نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد کے قریب فتح جنگ کے صحرائی علاقے میں چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حالت ٹھیک ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹ میں مطیع اللہ جان کے ہمراہ تصویر شیئر کی اور کہا کہ ‘میرے دوست کو خوش آمدید کہنے پر خوش ہوں، انہیں 12 گھنٹے بعد رہا کیا گیا۔’انہیں اغوا کے بعد آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
اس کے بعد انہیں شہر کے اندر گھمایا جاتا رہا اور پھر فتح جنگ چھوڑ دیا گیا جہاں مقامی افراد نے اہلخانہ تک پہنچنے میں ان کی مدد کی۔
مطیع اللہ جان کی اہلیہ اور بڑے بیٹے نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی وہ مجھے سکول چھوڑ کر گئے تو انہیں زبردستی اغواء کر لیا گیا ۔ میں چھوڑنے کے چند منٹ بعد ایک پولیس والے نے سکول کے مین گیٹ سے ہاتھ اوپر کر کے موبائل مانگا جو چوکیدار نے اٹھا کر دیا اور یہ خیال کیا کہ شاہد کوئی موبائل چور پکڑا ہے ۔ ایک بجے جب وہ مجھے واپس لینے نہ آئے اور ان کا ٹیلی نار کا نمبر بھی بند جارہا تھا جبکہ زونگ اٹینڈ نہیں کر رہے تھے تو چوکیدار نے بتایا کہ آپ کی گاڑی باہر کھڑی ہے جب ہم باہر گئے تو گاڑی کے ڈرائیور سائیڈ والا دروازہ کھلا تھا اور ان کا ایک موبائل گاڑی میں پڑا تھا اور دوسرا تو وہ لے گئے تھے۔ ہم نے تھانہ آبپارہ میں اس کی اطلاع دے دی ہے اور سی سی ٹی فوٹیج بھی دے دی ہے۔
جیسے ہی اس خبر نے صحافیوں اور عالمی تنظیموں کی توجہ حاصل کی اسی دوران مطیع اللہ جان کے ٹوئٹر اکانٹ سے 3 بج کر 17 منٹ پر ٹوئٹ کی گئی جو ممکنہ طور پر ان کے بیٹے نے کی۔
ٹوئٹ میں کہا گیا کہ میرے والد کو دارالحکومت اسلام آباد کے وسط سے اغوا کیا گیا، میں انہیں تلاش کرنے کا اور ان کی گمشدگی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں, خدا ان کی حفاظت کرے۔
وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی مطیع اللہ جان کے اغوا ہونے کی تصدیق کی اور کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ‘یہ واضح ہوچکا ہے کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا، ہم نہیں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم اسے نبھائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک صحافی نے مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی تاہم پولیس نے اس کی تصدیق کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اطلاع ملنے کے بعد پولیس اسٹیشن آبپارہ کی نفری مذکورہ مقام پر پہنچی، سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) عمر خان اور دیگر پولیس افسران بھی موقع پر موجود تھے۔
مطیع اللہ جان کے اغوا کے فوری بعد سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے ٹوئٹ میں بتایا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی)پولیس اسلام آباد کو معاملے پر کمیٹی کو بریف کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔


