ہوٹل انڈسٹری مز ید لاک ڈائون کی متحمل نہیں ہو سکتی ، حکو مت فوری طور پر ہو ٹل، ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالز کھولنے کی تاریخ کا اعلان کر ے

 

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری  ہو ٹل اینڈریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب

اسلام آباد: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری نے کہا ہے کہ چارہ ماہ کے لاک ڈائون نے ملک بھر کی تجارت اور صنعت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ،ہوٹل انڈسٹری اب مز ید لاک ڈائون کی متحمل نہیں ہو سکتی ، حکو مت فوری طور پر ہو ٹل، ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالز کھولنے کی تاریخ کا اعلان کر ے ،انھوں نے کہا کرونا کے شروع ہوتے ہی ملک بھر میں کاروباری سر گر میوں کا پہیہ رک گیا تھا ، حکو مت نے وعدے کے باوجود تاجر برادری کے لیے کسی قسم کے ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا ،ہم حکو مت سے مطالبہ کر تے ہیں تاجروں کو ہر طر ح کے ٹیکسوں میں ریلیف فراہم کیا جا ئے ،کرایے اور یو ٹیلیٹی بل معاف کیے جا ئیں اور کاروباری افراد کو بلا سود قر ضے فراہم کئے جائیں ، انھوں نے کہا اگر حکو مت نے  ہو ٹلز ، ریسٹورنٹس اور مارکیز کو جلد کھولنے کا فیصلہ نہ کیا توہم ہو ٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن اور دیگر تاجر تنظیموںکے ساتھ ملکر عید کے بعدملک گیر تاجر کنونشن منعقد کر کے ہر طر ح کے کاروبار کھولنے کا اعلان کر دے گی ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہو ٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمامنیشنل پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے منعقدہ احتجاجی مطاہرے سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پر ہو ٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن  پاکستان کے صدر خالد ایوب ،حبیب اللہ زاہد،ملک ظہیر، غلام بلال جاوید، شیخ عبدالوحید ، شرافت مبارک علی ، غلام علی ،راجہ ضیاء احمد نے بھی خطاب کیا ۔ محمد کاشف چوہدری نے کہا خد شہ ہے کہ اگر انہیں جلد کھولنے کی اجازت نہ ملی تو اس صنعت سے وابستہ 80 فیصد کاروبار مستقل بند ہو جائیں گے جبکہ ہزاروں کارکنان روزگار سے محروم ہو جائیں گے، ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالوں کی بندش کی وجہ سے گوشت، پولٹری، زیورات، دلہن کے لباس، پھول فروش، فرنیچر، کراکری سپلائرز، ٹینٹ سروس والے، ویٹر، بینڈوالے، لائٹنگ اور جنریٹر سپلائی کرنے والے سمیت دیگر بہت سے کاروبار بھی بہت متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہاجب ایس او پیز کے ساتھ دوسرے کاروبار کھول دیے گئے ہیں توہوٹل ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالز کو بھی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جانی چاہیے کیونکہ ان کے مالکان طے شدہ ایس او پیز کے ساتھ اپنا کاروبار چلانے کے لئے تیار ہیںمحمد کاشف چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس صنعت کے لئے ایک امدادی پیکیج کا اعلان کرے تا کہ اس طر ح کے کاروبار مزید تباہی سے بچ سکیں، انہوں نے کہا کہ مارکیز اور شادی ہالوں میں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہوتی لہذا وہ سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنے گاہکوں و کارکنوں کی صحت کی حفاظت کے لئے تمام حفاظی اقدامات لینے کو تیار ہیں لہذا حکومت ان کا کاروبار کھولنے کے لئے ایک تاریخ دے تا کہ وہ گاہکوں سے بکنگ کا سلسلہ شروع کر سکیں۔