اسلام آباد : اعداد و شمارکی بنیاد پر ، مربوط اور مرکوز حکمت عملی اپنا کرکرونا سے نمٹنے میں پاکستان سب سے بہترین مثال ہے۔ بیشتر مسلم ممالک بڑے پیمانے پرکرونا کے تباہ کن پھیلاو سے بچ گئے ہیں۔ اس بات کا اظہار ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے کرونا وائرس کے ردعمل پر کامسٹیک آن لائن ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں پچیس لاکھ کیسز اور قریب قریب سات لاکھ پچاس ہزار اموات ہوئیں ہیں اور یہ تعداد اس سال کے اختتام سے پہلے دس لاکھ ہوجائے گی۔ اس وبائی مرض نے ہر علاقے کو متاثر کیا ہے یہاں تک کہ بہت سارے علاقوں کا ہمارے پاس بہت کم ڈیٹا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پبلک سیکٹر نے مارچ سے اب تک صرف ٹیسٹوں پر 20 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔انہوں نے کہا
ڈاکٹر بھٹہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مسلم کمیونٹی کی منفرد خصوصیات میں کچھ حفاظتی عوامل موجود ہیں۔ جیسے نماز کے لئے وضو کرنا حفظان صحت کے حوالے سے بہت مفید ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ غذائی پابندیوں کی وجہ سے مسلمان بہت سارے جراثیمی اجزا جو متعدی بیماریوں کا خطرہ بن سکتے ہیں ان سے بھی بچ جاتے ہیں۔
انہوں نے مذہبی تقریبات اور اجتماعات جیسے خطرے والے عوامل پر بھی روشنی ڈالی جو وائرس کے ابتدائی پھیلائو میں اہم ذریعہ بھی بنے۔ کیونکہ حفاظتی حکمت عملی پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے واضع کیا کہ عالم اسلام میں ، تنازعات ، عدم تحفظ ، ویکسین کے استعمال میں ہچکچاہٹ اور صنفی اصول اور طریقے صحت سے متعلق اقدامات بھی اس کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
جمہوری معاشروں کے مقابلے میں آمرانہ حکومتیں کرونا کو کنٹرول کرنے میں زیادہ موثر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے متعدد ممالک ، برطانیہ اور امریکہ میں ایسا رسپانس نہیں دیکھا گیا جیسا کہ متوقع تھا۔
پاکستان خطے میں دوسرے ممالک سے بہت بہتر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش نے اموات اور روزانہ کے نئے کیسز کی تعداد پر قابو پا لیا ہے اور واقعی ہم نے مقامی ٹرانسمیشن میں کمی دیکھی ہے۔ مجموعی طور پرمثبت کیسز کی شرح چار فیصد کے لگ بھگ ہے۔
کرونا بیماری کی شدت پاکستان میں کم ہوگئی ہے اور اگر اگلے دو سے تین ہفتوں میں یہ ٹھیک رہتی ہے جبکہ ہم عید الاضحی کے بعد محرم کے دوران ہونے والے انفکشنز سے گزریں گے۔ تو ہم یہ کہہ پائیں گے کہ ہم موثر انداز میں اس وبا پر قابو پانے کے قابل ہوچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وبائی بیماری کے مستقبل کی پیش گوئی کے لئے ہمیں ماڈلنگ پر انحصار کرنا ہوگا ، ماڈلنگ سے اندازہ لگانا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وبائی مرض کہاں جارہی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہم نے یہ کام پاکستان کے لئے کیا ہے جو ہم جنوبی ایشیا کے لئے کر رہے ہیں ، اور ہم او آئی سی کے ممبر ممالک کے لئے یہ کر سکتے ہیں اگر پورے خطے میں دلچسپی ہو اور کامسٹک اس میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس بیماری کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ 2021 اور ممکنہ طور پر 2022 تک برقرار رہے۔ ہمیں کئی مہینوں تک اس وبائی مرض کے ساتھ رہنا ہے اور پیش گوئی یہ ہے کہ 2021 تک معاملات مستحکم ہوسکتے ہیں۔ یعنی جب تک لوگ اس وائرس کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے اور ویکسین کی دستیابی بھی ممکن ہو جائے گی۔انہوں نے اس عالمی چیلنج پر قابو پانے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لئے کوشش کرنے پر، کامسٹک کی تعریف کی۔
پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ ، ایف آر ایس ، بانی ڈائریکٹر ، انسٹی ٹیوٹ برائے گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ ، آغا خان یونیورسٹی ، جنوبی وسطی ایشیا ، مشرقی افریقہ اور برطانیہ اورچیئرعالمی ہیلتھ اینڈ پالیسی ، سینٹر فار گلوبل چائلڈ ہیلتھ ، عالمی بچوں کے صحت کا مرکز، یونیورسٹی اف ٹورونٹو، ٹورونٹو، کینیڈا ہیں۔



