اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بعض ممالک سی پیک سے خوش نہیں اور اسکے خلاف منفی پراپگینڈے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں ایسا کرنے والوں کو شکست ہوئی ہے،سی پیک پر قومی اتفاقِ رائے ہے،سی پیک فورم 2019 ترقی کی جانب ایک مثبت سمت ہے،سکالرز اور محققین کو سی پیک کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، سی پیک پاکستان اور چین کے عوام کو قریب لے کر آیا ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ بھارت ابھی الیکشن کے ماحول سے باہر نہیں نکل پایا ہے جمعرات کو سی پیک فورم 2019سے خطاب اور میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سی پیک پاکستان اور چین کے عوام کو قریب لے کر آیا ہے،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ نے دنیا کے باہمی ربط میں اہم کردار ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اس سے منسلک ہو چکے ہیں۔انھوں نے کہاکہ امریکی مقابلے کی فضا نے جنوبی ایشیا میں تجارتی دوڑ شروع کردی ہے،سی پیک سب کے لیے ابھرتی ہوئی داستان ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سی پیک فورم 2019 ترقی کی جانب ایک مثبت سمت ہے سکالرز اور محققین کو سی پیک کی بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔انھوں نے کہاکہ آئی ایس ایس آئی چینی ثقافت اور زبان کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے،سی پیک کے سرمایہ کاروں کو مستقبل میں دیرپا فائدہ ہو گاہمارے اداروں کو منفی پروپیگنڈا کی روک تھام کرنا ہوگی۔انھوں نے کہاکہ پاکستان اور چین صرف ہمسایہ ہی نہیں اچھے دوست بھی ہیں جتنا مضبوط پاک چین رشتہ ہے اتنی جلدی ہمیں چینی زبان سیکھیں گے۔ سی پیک ہمیں کاروبار کے فروغ اور ثقافت کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے،باہمی متواتر ربط دونوں ممالک کو قریب لا رہا ہے۔انھوں نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے چینی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے،سی پیک بہت بڑا منصوبہ ہے پہلے یہ محدود تھا اب اس میں توسیع ہو رہی ہے،سی پیک پر قومی اتفاقِ رائے ہے بیانیے بنائے جاتے ہیں جو سی پیک کے خلاف مختلف بیانیے بنا رہے تھے انہیں شکست ہوئی۔کچھ ممالک سی پیک سے خوش نہیں ہیں اور منفی پراپگینڈے کیے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین اور پاکستان نہ صرف اچھے پڑوسی ہیں بلکہ دونوں تمام موسمیاتی دوست اور آئرن برادر ہیں،دونوں ممالک کے درمیان دفاع،معیشت سمیت دیگر شعبوں میں اہم تعلقات ہیں خطے کے استحکام کیلئے دونوں ممالک علاقائی ہم آہنگی کے خواہاں ہیں۔انھوں نے کہاکہ میں نے اپنے غیر ملکی دورں کے دوران میں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے ۔سی پیک منصوبہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان نہیں بلکہ کوئی بھی ملک اس میں شامل ہوسکتا ہے ہم امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام ممالک کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔انھوں نے کہاکہ گوادر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور معاشی حب ہے بلوچستان کے عوام کیلئے بہت سے مواقع ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے پاکستان اور چین کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ہے جب پاکستان سے بزنس مین چین اور وہاں کے بزنس مین پاکستان آئیں گئے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔




