سائنس ڈپلومیسی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت اور اس کے لئے مربوط کوششوں کی بھی ضرورت ہے

کامسٹیک، انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز اور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے پروموشن آف سوشل سائنسز کے اشتراک سے کوویڈ- 19کے دوران سائنس ڈپلومیسی” کے موضوع پر ویبینار سے مقررین کا خطاب

اسلام آباد:کوویڈ- 19کے دوران سائنس ڈپلومیسی” کے موضوع پر ویبینار کے مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سائنس ڈپلومیسی کو فروغ دینے کے لئے سفارت کاروں، ماہرین، تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، کنسورشیم اور سماجی و مادی سائنسدانوں کی مربوط کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ویبنار کامسٹیک، انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز اور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے پروموشن آف سوشل سائنسز نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔کوآرڈینیٹر جنرل، کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے اپنے استقبالی کلمات میں کہا کہ انسانیت کی تاریخ میں کبھی بھی کرونا وائرس جیسے بحران پیدا نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وبائی دور کے دوران بین الاقوامی سفارت کاری اور سائنس ڈپلومیسی کی ناکامی دیکھی ہے۔ صحت عامہ، معاشرتی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے غریب ممالک اکیلے رہ گئے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ کوویڈ 19 کے بعد کا دوروبائی بیماری سے پہلے کے دور جیسا نہیں ہوگا اور پچھلے وبائی امراض کا تجزیہ کرنے کے بعد انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگلی وبائی بیماری اگلے چھ سالوں میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سراہا کہ انسانیت کی تاریخ میں کبھی بھی سائنس و ٹیکنالوجی کو اتنی جلدی عالمی وبائی بیماری کا سامنا کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا ہے جتنا کہ اس دفعہ ہوا۔بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی نے کہا کہ سیاسی اور سفارتی مفادات سائنس اور ٹیکنالوجی سے بہت قریب سے جڑے ہوئے ہیں اور سائنس ڈپلومیسی کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معاشی نمو پیداواری صلاحیت سے جڑی ہے اور سائنس اور تکنیکی ترقی پر توجہ دیئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی نمو کے لئے نجی شعبے کو شامل کرنا سب سے اہم ہے۔قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ کامسٹیک جیسی تنظیمیں، سفارت کار، یونیورسٹیاں اور ریسرچ آرگنائزیشنز مل کر سائنس ڈپلومیسی کو فروغ دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیاں پالیسی ماہرین کے ذریعہ بنائی جاتی ہیں، اور ان کا اطلاق اداروں، یونیورسٹیوں اور سول سوسائٹی کے ذریعے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بطور کومسٹک کی پارٹنر یونیورسٹی ہم کوویڈ کے ساتھ ساتھ بہت سے شعبہ جات جیسے معیشت، صحت، اور دلچسپی کے بہت سے دوسرے شعبوں کو دیکھنے کے لئے او آئی سی کے ممبر ممالک سے 20 یونیورسٹیوں کا کنسورشیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے آن لائن تعلیم، سیمینارزاور اجلاسوں کے انعقاد پر زور دیا۔ کامران اختر ملک، ڈی جی، اے سی ڈی آئی ایس، وزارت خارجہ، پاکستان نے کہا کہ ڈپلومیسی میں سائنس کا کردار نیا نہیں ہے۔ ڈپلومیسی کا استعمال سائنس و ٹیکنالوجی کی سہولت کے لئے کیا گیا ہے۔ کوڈ 19 نے سائنس ڈپلومیسی کی اہمیت کو تقویت بخشی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سائنس ڈپلومیسی صرف صحت تک ہی محدود نہیں ہے، سائنس ڈپلومیسی سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔ انہوں نے اس وبائی مرض کے دوران کی گئی بہت ساری سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سائنس ڈپلومیسی کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے اور اس عمل میں متعدد سہولت کار اداروں کو شامل کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامسٹیک، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور یونیورسٹیاں سفارت کاروں کے لئے اس ضمن میں مناسب معلوماتی سرگرمیاں انجام دیں۔فرحت آصف، بانی صدر، انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز، نے سیشن کی میزبانی کی اور سائنس دانوں اور سفارتکاروں کے مابین سفارتکاری کی ابھرتی ہوئی جیہات کو فروغ دینے اور سائنسدانوں اور سفارتکاروں کے درمیان رابطوں کو مزید مظبوط بنانے پر زور دیا اور اس ویبینار کو منعقد کرنے کے مقاصد اور وجوہات کی وضاحت کی تاکہ بڑھتی ہوئی قومی، علاقائی اور عالمی چیلنجوں اور وبائی امراض کا فوری اور موثر جواب دینے کے لئے تعاون کو مزید فروغ دیا جاسکے۔یہ ویبینار فیس بک کے متعدد صفحات پر براہ راست دکھایا گیا اور اس میں سائنس ڈپلومیسی میں گہری دلچسپی رکھنے والے سفارت کاروں، طلباء ، فیکلٹی ممبران اور سول سوسائٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔