’ویری گُڈ، وی لو پاکستان‘ جیسے الفاظ سے پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف
ہمیں پاکستان سے محبت ہے، آپ نے جو کچھ کیا، اس کےلیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں
امریکی صدر نے ہمیں کہا کہ ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں ، جے ڈی وینس
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث مذاکرات ممکن ہوئے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف
اسلام آباد: امریکی صدر ٹرمپ جو پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں اور ایران امریکہ جنگ بندی میںپاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کرتے نہیں تھکتے ان کے بعد اب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان کے دیوانے نکلے ہیں اور انہوںنے
نے ’ویری گُڈ، وی لو پاکستان‘ کہہ کر پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کیا ہے.
برگن اسٹاک میں ایران سے مذاکرات کےلیے پہنچنے والے امریکی نائب صدر نے صحافی کے سوال پر پُرجوش انداز میں پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان سے محبت ہے، آپ نے جو کچھ کیا، اس کےلیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اعلیٰ مدبرانہ صلاحیتوں کے بغیر آج ہم یہاں نہ ہوتے.
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ان کی زندگی میں دو اہم ترین شخصیات ہیں جن میں ایک بھارتی اور ایک پاکستانی ہیں۔
جے ڈی وینس نے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اپنی اہلیہ کا دلچسپ انداز میں ذکر کیا۔
اپنی گفتگو شروع کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے اپنی قیادت، انتہائی تدبر اور مہارت پر مبنی سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہمیں اس اہم موڑ تک پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اور میں شکریہ ادا کروں گا پاکستان میں ان کے فیلڈ مارشل، عاصم منیر کا۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ جب سے فیلڈ مارشل منیر اور وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں ہمارا خیرمقدم کیا ہے، تب میں نے مذاقاً ایک بات کہی کہ میری زندگی میں دو بہت ہی اہم ترین شخصیات ہیں؛ ایک بھارتی اور ایک پاکستانی۔جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ بھارتی شخصیت میری اہلیہ ہیں، اور پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران میں نے جتنا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ اور بات چیت کی ہے شاید ہی کسی اور سے کی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اعلیٰ مدبرانہ صلاحیتوں کے بغیر آج ہم یہاں نہ کھڑے ہوتے۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بلاشبہ ایک عظیم فوجی لیڈر ہیں، لیکن میرے خیال میں انہوں نے خود کو ایک عظیم اور ماہر سفارتکار بھی ثابت کیا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے. اس معاملے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار لائق تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے، ہم مستقبل کے لیے مزید بہتر کام کرنا چاہتے ہیں۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امن کے لیے ایران کے مثبت کردار کے خواہاں ہیں،اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنان کی صورتحال پر تشویش ہے، امریکی صدر لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب رہا ہے، پچھلے چند گھنٹوں میں ہم نے بہترین پیشرفت کی ہے، معاملات پر مثبت گفت و شنید کی ضرورت ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمیں متعدد مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کا اختیار دیا ہے، سوال یہ ہے کہ آیا ہم مشرق وسطیٰ میں تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کرسکتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ نے ہمیں کہا ہے کہ ہم نئی شروعات کریں، امریکی صدر نے ہمیں کہا کہ ایرانی عوام سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اب ہم ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن و خوشحالی کےلیے کام کریں، لبنان جنگ بندی یقینی بنانے کے لیے گزشتہ دو روز میں بہترین پیشرفت دیکھی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ آج امن، ترقی اور بحران کے خاتمے کے لیے عظیم دن ہے، تعمیری مذاکرات کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے، مشرق وسطی میں امن کا قیام ہماری ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث مذاکرات ممکن ہوئے ہیں۔برگن اسٹاک میں لیک لوزن سمٹ کے کانفرنس ہال میں گفتگو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ یہ عالمی امن کا اہم ترین موقع ہے، ہم مل کر دنیا میں اتحاد قائم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران اور امریکا کے مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
کانفرنس ہال پہنچنے پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف کا خیرمقدمی استقبال کیا۔
امریکی نائب صدر نے پاکستان وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت پاکستانی وفد سے ملاقات کی۔



