ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی سیاست دم توڑ گئی

 قائد ایوان اور فیصل جاوید نے اپوزیشن کو مشتعل کر دیا ، رہی سہی کسر عبدالغفوری حیدری اور مشتاق احمد نے پوری کر دی

بعض حکومتی ارکان کی مداخلت پر قائد ایوان نے دل آزاری پر ہلکی سی معذرت تو کی لیکن اس وقت تک دیر ہوچکی تھی

چئیرمین آخری دم تک حکومت اور اپوزیشن کو ذمہ داری کا احساس دلاتے رہے لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی

 

اسلام آباد(محمدرضوان ملک ) منگل کو ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی سیاست دم توڑ گئی ۔سینیٹ میں اپوزیشن نے سابق صدر آصف زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے متعلق قائد ایوان کے بیان پر شدید احتجاج کیااور ایوان بالا نے قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا (ترمیمی)بل 2020اور اسلام آباد دارالخلافہ وقف املاک بل 2020ء کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ بلز کی منظوری کے لئے چئیرمین کی تمام کوششیں بھی رائیگاں گئیں ۔چئیرمین بلوں کی منظوری کے حوالے سے ذہن بنا کے آئے تھے ۔وقفہ سوالات کو معطل کیا گیا، کورم کی نشاندہی کے باوجود بار بار گھنٹیاں بجوا کر کورم پورا کرنے کی کوشش کی ، اپوزیشن کو واک آئوٹ سے بلایا گیا ۔ چئیرمین جو مذکورہ بلوں کی منظوری کے حوالے سے مکمل ذہن بنا کر آئے تھے بار بار دونوں جماعتوں کو ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کرتے رہے لیکن بیل منڈے نہ چڑھ سکی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان، رضا ربانی ، مصطفی نواز کھوکھر اور جاوید عباسی کے درمیان آئین کا آرٹیکل 220 اور 278 کافی دیر زیر بحث رہے حتیٰ کہ عبدالغفور حیدری کو کہنا پڑا جناب چئیرمین آپ نے تو عدالت عالیہ لگا رکھی ہے دونوں جانب سے وکلاء دلائل دے رہے ہیں اور ہم سخت مشکل میں پڑے ہیںحالانکہ چند چھوٹی جماعتوں کے علاوہ سب جماعتیں بل پر متفق ہیں جنہوں نے تنقید کی ہے وہ معذرت کریں اور معاملہ آگے بڑھائیں ۔حکومتی رکن سینٹر نعمان وزیر خٹک نے بھی معاملہ سلجھانے کی کوشش کی بعد میں وسیم سجاد نے ڈھیلے ڈھالے انداز میں معذرت بھی کر لی کہ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت خواہ ہوں لیکن اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ پہلی دفعہ معاملہ وقفہ سوالات معطل کرنے پر بگڑا لیکن چئیرمین نے جلد ہی معاملات پر قابو پالیا ۔ لیکن سینٹ میں قائد ایوان وسیم شہزاد اور فیصل جاوید نے روائیتی انداز میں اپوزیشن پر تنقید کر کے اسے پھر سے مشتعل کر دیا اور کسی صورت معذرت پر بھی راضی نہ ہوئے۔ انہوں نے وفاقی وزراء بابر اعوان اور فروغ نسیم کی تمام کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اپوزیشن ہی پر الزام عائد کردیا کہ ملک کو گرے لسٹ میں انہوں نے دھکیلا یہ منی لانڈرنگ میں ملوث منی لانڈرنگ کا لفظ اپوزیشن کو کیوں چھیڑ لگتا ہے، یہ اپنی نوکری بچانے کے لئے ایوان میں شور شرابہ کرتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا ایشو ہمارے حکومت میں آنے سے پہلے کا ہے۔ اپوزیشن نے ایسا کیا کیا کہ جس کے باعث ملک گرے لسٹ میں گیا، ایف اے ٹی ایف اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا تھا اس پر قائم ہوں، ہم ملک کو گرے لسٹ سے نکالنا چاہتے ہیں، ابھی تو بل ایوان میں آیا نہیں پھر بھی یہ شور شرابہ کیوں کر رہے ہیں۔ قائد ایوان نے کہا کہ اپوزیشن نے ایوان میں دھمکی دی ہے، ان کی نازیبا گفتگو بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، اپوزیشن غلط فہمی کا شکار ہے، ان کے سب کرتوت ایوان میں سامنے لاں گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہوں، کسی کا کاسہ لیس نہیں ہوں، اپوزیشن کا مسئلہ قومی سلامتی نہیں مالی سلامتی ہے، ان کے لئے یہ قومی مفاد کا نہیں مالی مفاد کا معاملہ ہے، اپوزیشن شور مچا کر مجھے بولنے سے نہیں روک سکتی، میں نے کسی کا نام نہیں لیا، حقائق پر بات کی ہے، اپوزیشن نے فیصلہ کرنا ہے، وہ قومی سلامتی اور ملکی مفاد کے ساتھ کھڑی ہے یا اس کا مقصد ذاتی مفاد ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ یہ اپوزیشن کم اور چھوئی موئی زیادہ ہے، یہ ذاتی مفاد کے لئے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے پہلے خطاب کے فوری بعد حکومت کو ناکام قرار دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، انہوں نے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر مختلف اوقات میں بلیک میلنگ کی کوشش کی، اپوزیشن بلیک میل کرنے کے لئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران بلاول بھٹو کو بے بی بلاول بھی کہ دیا جس سے اپوزیشن مزید غصے میں آگئی۔مولا بخش چانڈیو ، مشاہد اللہ، مصطفٰٰی نواز کھوکھر ،اسلام الدین شیخ نے شدید احتجاج کیا اور کہا ک قائد ایوان ایوان کو چلانا کی بجائے اسے بلڈوز کرنا چاہتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ آپ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کو صبح شام گری ہوئی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ ہم نے پاکستان کے لیے تعاون کیا تھا۔

بشکریہ:نوائے وقت