ایک سال سے تعلیمی سرگرمیاں معطل,کرونا نے سب سے زیادہ نقصان طلباء کو پہنچایا

تعلیمی اداروں میں سو فیصد سرگرمیاں یکم فروری 2021 ء سے قبل ممکن نہیں

خالدہ راجہ سے

اسلام آباد:کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان طلباء کا ہوا ہے تعلیمی ادارے مارچ سے بند ہیں اور اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ یہ آئندہ سال مارچ سے قبل تعلیمی ادارے مکمل طور پر بحال ہوسکیں ۔اس وقت بعض تعلیمی ادارے سات ستمبر اور بعض پندرہ ستمبر سے جزوی طور پر کھولنے کی اطلاعات ہیں لیکن اس فیصلہ اس وقت کی صورت حال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے کے حوالہ سے ایک اہم سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر’ نئی بات’ کو بتایا کہ تعلیمی اداروں میں سوفیصد سرگرمیاں یکم فروری2021سے پہلے ممکن نہیں ہیں،اس سے قبل تعلیمی ادارے اگر کھلے تو محدود پیمانے پر ہی کھلیں گے،ہاسٹلز کے حوالہ سے پالیسی وضح کرلی گئی ہے کہ کرونا کے مکمل خاتمے تک ہاسٹلز میں 30فیصد سے زائد کسی بھی صورت میں داخلہ کی اجازت نہ ہوگی۔اعلی عہدے دار نے مزید بتایا کہ پرائمری سکول بدستور بند رہیں گے،مڈل سے اعلی ثانوی تک تین دن ایک طالب علم سکول آئے گا وہیں 4دن چھٹی ہوگی،تمام سکولوں میں اس امر کویقینی بنایا جارہا ہے کہ دو شفٹ میں سکولوں کو چلایا جائے اور کسی بھی طرح25سے زائد بچے ایک کلاس روم میں موجود نہ ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعات کے حوالہ سے پالیسی جامعات کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے واضح کردی گئی ہے،جامعات کے کھلنے کی صورت میں صرف پہلے سمسٹر میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ ہی جامعات آسکیں گے وہیں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ جامعات آسکیں گے،بی ایس پروگرامات میں 3،5اور 7سمسٹر میں زیر تعلیم طلبہ کاآئیندہ سمسٹر بھی آن لائن ہوگاوہیں جامعات کے ہاسٹلز میں 30فیصد طلبہ ہی داخل ہوسکیں گے اس حوالہ سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات کے ہاسٹلز میں نئی الاٹمنٹ سے منع کیا ہے۔اعلی عہدے دار نے کہا کہ آئیندہ سمسٹر جن طلبہ کا آن لائن ہوگا ان سے ماضی کی نسبت30فیصد کم فیس وصول کی جائیگی اور ان کے مڈ کے امتحانات آن لائن جبکہ فائنل امتحانات آن لائن نہیں ہونگے۔جبکہ دوسری جانب غیر یقینی صورت حال اور واضح حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باوجود بعض جامعات نے7ستمبر کو تعلیمی سرگرمیوں کو شروع کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔