ڈاکٹر ماہا کیس میں ڈرامائی موڑ، قتل کیے جانے کا امکان سامنے آگیا،پولیس نے قبر کشائی کے لئے مجسٹریٹ کو خط لکھ دیا

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خود کشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے کیس میں ڈرامائی موڑ آگیا۔ ڈاکٹر ماہا شاہ کی میڈیکو لیگل رپورٹ میں انہیں قتل کیے جانے کا امکان سامنے آگیا ہے۔
ڈاکٹر ماہا رائٹ ہینڈر تھی جب کہ گولی ڈاکٹر ماہا کے سر میں بائیں جانب سے لگی اور دائیں جانب سے باہر نکلی۔حکام نے کہا ہے کہ اگر یہ رپورٹ ٹھیک ہے تو اس سے کرائم سین کے جعلی ہونے کا شبہ پیدا ہوگا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکو لیگل رپورٹ کی بنیاد پر ہی ڈاکٹر ماہا کی قبرکشائی کے لیے مجسٹریٹ سے درخواست کی گئی ہے۔ جیو چینل ذرائع کے مطابق تفتیش میں ڈاکٹر ماہا کی ہلاکت قتل ثابت ہوئی تو اہلخانہ کو شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔
ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا تھا کہ اس کے مرحومہ سے گزشتہ 4 سال سے تعلقات تھے اور دونوں جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔جنید کا کہنا تھا کہ ماہا کو روز نجی اسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا لیکن جس دن اس نے خودکشی کی اس دن ماہا نے گھر آنے سے منع کیا۔
خاتون ڈاکٹر کے دوست کا کہنا تھا کہ ماہا کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا، ماہا گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔ڈاکٹر ماہا علی کی موت کو پولیس نے اپنی تحقیقات کی بناپر خودکشی قرار دیا ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نے اپنے دوست جنید کے تشدد سے تنگ آکر خود کو مارا۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے والد آصف علی شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بیٹی کو بلیک میل کیا جارہا تھا اور اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ڈاکٹر ماہا کے والد کا کہنا ہے کہ جنید، ڈاکٹر عرفان اور وقاص سمیت ایک منظم گروہ نے ان کی بیٹی کو پہلے نشے کی لت پر لگایا، پھر بلیک میل کیا اور دھمکیاں دیں جو میری بیٹی کی موت کی وجہ بنا۔ادھر عدالت نے ڈاکٹر ماہا کی خودکشی کے کیس میں نامزد ملزم عرفان قریشی کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
دوسری جانب پولیس نے ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کیلئے مجسٹریٹ کو خط لکھ دیاہے ایس پی انویسٹی گیشن جنوبی نے سیشن جج میرپورخاص کو ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کے لیے خط لکھ دیا۔جیو نیوز کے مطابق خط میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر ماہ کی موت کی تفتیش کے لیے قبر کشائی ضروری ہے، 18 اگست کو ڈاکٹر ماہا گولی سے زخمی ہوئی اور ہسپتال منتقلی کے بعد انتقال کرگئی تھیں۔
خط کے متن کے مطابق جناح ہسپتال کے ڈاکٹر عرفان نے میڈیکل رپورٹ غلط بنائی ہے، ڈاکٹر ماہا کی موت کے معاملے پر ڈاکٹر عرفان، جنید خان اور وقاص رضوی کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کے لیے 2 رکنی تفتیش ٹیم کراچی سے روانہ ہوئی ہے اور مجسڑیٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کی جائے گی۔