یورپی مسلم اکثریتی ملک کوسوو نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرلیا،ٹرمپ کا دعویٰ

سربیا نے بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کر دیا آئندہ دنوں میں مزید مسلم اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے

سعودیہ کے بعد ایک اور عرب ملک بحرین نے بھی اسرائیل کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ مشرق وسطی کے امن کیلئے ایک اور بڑا دن ہے ، مسلم اکثریتی کوسوو اور اسرائیل تعلقات معمول پر لانے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے رضامند ہوگئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید مسلم اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔
ترک میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس میں کوسوو نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جلد سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ یورپی ملک سربیا نے بھی اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اگلے سال جولائی تک سربیا کا سفارتخانہ وہاں منتقل کردیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد سربیا پہلا یورپی ملک بن گیا ہے جس نے اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ اس اعلان پر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے کوسوو اور سربیا کے درمیان بھی معاہدہ کرادیا ہے اور دونوںممالک کے درمیان تجارتی تعلقات معمول پر لانے کیلئے معاہدہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے صدر ٹرمپ کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نیپہل کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کیا تھااور اب دونوں ممالک کے درمیان پروازیں بھی چل رہی ہیں۔
دوسری طرف
سعودیہ کے بعد ایک اور عرب ملک بحرین نے بھی اسرائیل کو فضائی حدود استعمال کرنیکی اجازت دے دی ہے ۔اب متحدہ عرب امارات آنے اور جانے والی تمام پروازیں بحرین کی فضائی حدود استعمال کر سکیں گی
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بحرین نے متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اسرائیل کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اور متحدہ عرب امارات جانے والی اب ہر قسم کی پروازیں بحرینی فضائی حدود استعمال کرسکیں گی۔بحرینی وزارت ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بحرین نے متحدہ عرب امارات آنے اور جانے والی تمام پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس کے بعد ہی اسرائیل سے امارات جانے والی پرواز ایل وائے 971 سعودی عرب کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ابوظبی پہنچی تھی۔
خیال رہے کہ بحرینی حکومت کی جانب سے اعلامیے میں اسرائیل کا نام استعمال نہیں کیا گیا جب کہ اس سے قبل سعودی عرب نے بھی امارات آنے والے تمام طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی لیکن اس میں بھی اسرائیل کا نام شامل نہیں تھا۔
عرب میڈیاکے مطابق اسرائیلی سرکاری ائیرلائن نے جاری بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب کے قریب قائم ائیرپورٹ سے 16 ستمبر کو پہلی کارگو پرواز امارات کے لیے روانہ ہوگی۔امارات جانے والے بوئنگ 747 طیارے میں زرعی اور ہائی ٹیک آلات ہوں گے، یہ پرواز بیلجیم کے راستے دبئی پہنچے گی تاہم مستقبل میں مذکورہ روٹ کی تبدیلی متوقع ہے۔یہ کارگو پروازیں ہر ہفتے اسرائیلی کمپنیوں کے لیے درآمدات اور برآمدات کے سامان کے ساتھ دبئی کے لیے اڑان بھریں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینیئر مشیر جیرڈ کشنر نے بحرینی شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔