
لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کے افسر ساجد گوندل کی گمشدگی کا نوٹس لے لیا۔کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ساجد گوندل کی گمشدگی سے متعلق سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔جبکہ انہوں نے ساجد گوندل کے اہل خانہ کو بھی تین بعد ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال لاپتہ افراد کمیشن کے بھی سربراہ ہیں۔
دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی لاپتہ افسر کو پیر تک بازیاب کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔ عدالت نے حکمنامہ لکھوایا ہے کہا کہ پیر کو دو بجے تک ساجد گوندل بازیاب نہ ہوئے تو سیکرٹری داخلہ خود عدالت میں پیش ہوں گے۔
اتوار کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ان کی والدہ، بچوں، اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد و دوستوں نے شرکت کی۔ شرکا نے ساجد گوندل کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔مغوی کی والدہ نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، نا ہی کسی پر کوئی الزام ہے۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ساجد گوندل کو باحفاظت واپس لوٹا دیا جائے۔
ساجد گوندل کو لاپتہ ہوئے چار دن ہوچکے ہیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل جمعرات کو اسلام آباد سے لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے دن ساجد گوندل کی سرکاری گاڑی شہزاد ٹان کے علاقے میں محکمہ زراعت کے زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے پولیس کو مل گئی۔ سڑک کنارے کھڑی گاڑی کے دروازے کھلے ہوئے تھے اور چابی بھی اگنیشن میں لگی ہوئی تھی۔
صحافی اعزاز سید گاڑی ملنے پر فوری پہنچ گئے تھے۔ موقع ہر ہی ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پولیس نے ساجد گوندل کی گاڑی سے انگلیوں کے نشانات لیے تو پتہ چلا کہ گاڑی پر ساجد گوندل سمیت کسی کی بھی انگلیوں کے نشان موجود نہیں۔




