ٹرمپ کی پھرتیاں ، بحرین بھی اسرائیل سے امن معاہدے کیلئے تیار

 


واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بحرین اور اسرائیل ایک امن معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ العربیہ نیٹ اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ، بحرین کے فرمانرا شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے پر متفق ہوگئے۔ صدرٹرمپ نے کہا کہ بحرین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پراتفاق تاریخی واقعہ ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ 30 روز کے اندر اسرائیل اور ایک عرب ملک کے درمیان یہ دوسرا امن معاہدہ ہے۔ اس سے پہلے امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہو چکا ہے۔
امریکی صدر کے مشیر کوشنر نے جو صدر ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، کہا کہ امن معاہدے کے بعد بحرین اور اسرائیل ایک دوسرے کے یہاں اپنے سفارتخانے کھولیں گے۔ تینوں رہنماں کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں مزید امن کے لیے یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
گذشتہ ہفتے ہی بحرین نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
اگست میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس وقت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تاریخی سفارتی بریک تھرو سے مشرقِ وسطی میں امن کو فروغ ملے گا۔
تینوں رہنماں کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور مملکتِ بحرین کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کے قیام پر متفق ہوگئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام مشرق وسطی میں مزید امن کے لیے تاریخی پیش رفت ہے۔دونوں متحرک معاشروں کے درمیان براہ راست بات چیت اور تعلقات کی شروعات سے مشرق وطسی میں مثبت تبدیلی کا عمل جاری رہے گا۔ خطے میں استحکام ، سلامتی اور خوشحالی بڑھے گی۔
امریکی صدر کے مشیر کوشنر نے کہا کہ امن معاہدے کے بموجب بحرین اور اسرائیل ایک دوسرے کے یہاں اپنے سفارتخانے کھولیں گے۔
امریکی وائٹ ہاس نے ایک بیان میں کہا کہ تمام فریق خطے میں منصفانہ اور مکمل امن تک رسائی کے لیے اپنا مشن جاری رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں۔