قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی منصو بہ بندی ورترقی نے سی پیک اتھارٹی (ترمیمی) بل 2020 کی کثرت رائے سے منظوری دیدی

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو تنخواہ کا کوئی پیکیج نہیں دیا جارہا ہے، سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد چیئرمین نے کسی بھی ایم او یو پر دستخط نہیں کئے’ وزارت منصوبہ بندی کے حکام کی کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آ باد ( نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصو بہ بندی وترقی نے سی پیک اتھارٹی (ترمیمی) بل 2020 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ، بل کی منظوری کے بعد چیئرمین سی پیک اتھارٹی اپنی زمہ داریاں ادا کرسکیں گے۔ وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے کمیٹی کو بتا یاکہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو تنخواہ کا کوئی پیکیج نہیں دیا جارہا ہے، سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد چیئرمین نے کسی بھی ایم او یو پر دستخط نہیں کئے۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قا ئمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کا اجلاس جنید اکبر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ایچ ای سی کی مالی ضروریات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، ایچ ای سی سے استفسار کیا گیا کہ سکالرشپ کی بنیاد پر بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے پر طلبہ کو کیوں روکا جارہا ہے،ا یچ ای سیکے حکام نے بتا یا کہ طلباء کو سکالرشپ پر باہر جانے سے ہرگز نہیں روکا جارہا، کورونا کے باعث پوری دنیا کی یونیورسٹیاں غیر ملکی طلبا کو قبول نہیں کررہی ہیں، اجلاس میں میں سی پیک (ترمیمی) بل 2020ء پر تفصیلی غور کیا گیا ، وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے کمیٹی کو بتا یا کہ چیئرمین سی پیک کو تنخواہ کا کوئی پیکیج نہیں دیا جارہا ہے، سی پیک آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد چیئرمین نے کسی بھی ایم او یو پر دستخط نہیں کئے، کمیٹی نے تفصیلی بحث کے بعد اکثریتی رائے سے سی پیک ترمیمی بل منظور کرنے کی تجویز دی ، بعض ارکان کی تجویز کی مخالفت اور اختلافی نوٹ پیش کیا۔