گوادر پورٹ ، تجارت ، صنعتوں ، سائنس و ٹیکنالوجی ، ثقافت اور تعلیم کا مرکز بننے کی جانب گامزن ہے،سرمایہ کاری بورڈ

اسلام آباد؛پاکستان کے جنوب مغرب میں گوادر پورٹ ایک اہم لاجسٹک ، تجارت ، ابھرتی ہوئی صنعتوں ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، ثقافت اور تعلیم کا مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔سرمایہ کاری بورڈ کے مطابق اس وقت گوادر پورٹ کی ترقی نہ صرف بلوچستان بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔ گوادر بندرگاہ افغانستان ، تاجکستان اور وسطی ایشیاء کے دیگر ممالک کے لئے قریب ترین سمندری بندرگاہ، علاقائی لاجسٹکس اور شپینگ کا مرکز بن جائیگی۔ پاکستانی قیادت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے چمکتے ہوئے موتی گوادر پورٹ کی تعمیر کو مسلسل فروغ دینے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ گوادر پورٹ میں متعلقہ منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانے کے لئے چین اور پاکستان کے متعلقہ محکموں نے 30 نومبر 2020 کو ویڈیو لنک کے ذریعے مشترکہ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی)کا پانچواں اجلاس منعقد کیا ، جس میں فریقین نے گوادر پورٹ سے متعلق منصوبوں، ، سڑک اور ہوائی ڈھانچہ ، پانی اور صفائی کی سہولیات کی فراہمی پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ 2020 کے اوائل سے چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر کورونا وائر س کے اثرات پر قابو پانے اور گوادر سیریز منصوبوں کی مستحکم اور پائیدار تعمیر و عملدرآمدکو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوشش کی ہے۔