
اسلام آباد:پاکستان نے دشمن ایجنسیوں کے آلہ کاروں کی جانب سے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر جنوب مغربی بلوچستان صوبے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)کے منصوبوں کی حفاظت کے لئے سکیورٹی کو بڑھا دیا ہے۔راولپنڈی میں میڈیا نمائندوں سے ایک ملاقات میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان سی پیک پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے اور حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سی پیک منصوبوں کے لئے زیادہ سکیورٹی کی فراہمی اور پورے صوبے میں سکیورٹی میں اضافے کے ذریعے سی پیک کی سکیورٹی کوبراہ راست اور بالواسطہ طور پربہتر بنایاگیا ہے تاکہ سی پیک کے منصوبوں پرمعمول کے کام کو یقینی بنایا جاسکے۔فوجی ترجمان نے بتایا کہ ہم نے سکیورٹی کودو ڈویژن تک بڑھایا دیا ہے جو سی پیک کی حفاظت پر مامور ہے اس کے علاوہ صوبے میں نیم فوجی دستوں کے یونٹ کی تعداد کو بھی ایک سے بڑھا کر دو کردیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق انہوں نے کہا کہ حملوں کے لئے پیچیدہ اور جدید ہتھیاروں کے استعمال سے عسکریت پسندوں کی استعداد میں اضافہ ہواہے لیکن فوج ان کا جارحانہ انداز میں تعاقب کررہی ہے۔میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ فوج خفیہ اطلاعات کی بنیاد پرعسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے جس سے وہ اپنی کمین گاہوں سے بوکھلائے ہوئے باہر آرہے ہیں اور جوابی حملے کررہے ہیں تاہم ان کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ان کا جلد صفایا کردیا جائے گا۔


