سی پیک جب تک مکمل نہیں ہوتا ہمیں الرٹ رہنا ہوگا


بھارت کے ذریعے سی پیک کوسبوثاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ڈاکٹر طلعت بشیر
سی پیک مواقع اور چیلنجز” کے عنوان سے منعقدہ آگاہی پروگرام سے خطاب

اسلام آباد:چائنہ پاکستان سٹڈی سنٹر انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سڈیزاسلام آباد (سی پی ایس سی آئی ایس ایس آئی)کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے لوگوں میں سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے اور منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ سی پیک کی کامیابی چین کیلئے بہت اہم ہے ،منصوبے کی ناکامی کی صورت میں چین کوبہت زیادہ نقصان اٹھاناپڑسکتاہے، سی پیک کو آج بھی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ پاکستان کی خوشحالی بہت سے ممالک کو کھٹکتی ہے ،خطے کے کچھ سیاسی کھلاڑیوں کو اس بات کا خطرہ ہے کہ چین پاکستان تعاون سے بھارت کا اثرورسوخ کم ہوسکتا ہے ،بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ امریکہ کو کھٹکتا ہے اسی لئے بھارت کے ذریعے سی پیک کوسبوثاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سی پیک چین اور پاکستان کو پہلے سے بہت زیادہ قریب لے آیا ہے ۔وہ انسٹیٹیوٹ آف انجیئنرز پاکستان (راولپنڈی، اسلام آباد سنٹر)کے زیر اہتمام ”سی پیک مواقع اور چیلنجز” کے عنوان سے منعقدہ آگاہی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پرڈاکٹر عطا اللہ شاہ ، وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ، گلگت بلتستان، چیئرمین آئی ای پی۔آرآئی سی حافظ ایم احسان الحق قاضی اور سیکرٹری آئی ای پی۔آرآئی سی انجینئر نجم الدین اورسی پی ڈی کے کنوینرانجینئر احمد شمیم اورڈاکٹر شریف بھٹی سابق وی سی یو ای ٹی ٹیکسلا بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر طلعت نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی معیشت اور ترقی کیلئے بہت اہم منصوبہ اور ایک تاریخی موقع ہے جس سے ہمیں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت متعلقہ منصوبوں کے آغاز کے بعد سے توانائی کی پیداوار میں90فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جس سے لاکھوں شہری استفادہ حاصل کررہے ہیں ، منصوبے کے تحت تین ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کا نیٹ ورک مکمل ہو چکا ہے۔ پہلے دو مراحل میں 80فیصد کام مکمل ہوگیا جبکہ 20فیصد وہ کام باقی رہ گیا ہے جو 22منصوبوں پر جاری ہے۔ان کاکہناتھا کہ سی پیک کو آج بھی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ،پاکستان کی خوشحالی بہت سے ملکوں کو کھٹکتی ہے ، سی پیک چین اور پاکستان کو پہلے سے بہت زیادہ قریب لے آیا ہے ،خطے کے کچھ سیاسی کھلاڑیوں کو اس بات کا خطرہ ہے کہ چین پاکستان تعاون سے بھارت کا اثرورسوخ کم ہوسکتا ہے ۔بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ امریکہ کو کھٹکتا ہے اسی لئے بھارت کے ذریعے سی پیک کوسبوثاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چین کے 70سے زائد ممالک کے ساتھ سڑکوں اور بندرگاہوں کے ذریعے رابطے جڑ گئے ہیں اور ان ممالک میں چین کا امریکہ سے زیادہ اثر رسوخ ہے ۔ سی پیک جب تک مکمل نہیں ہوتا ہمیں الرٹ رہنا ہوگا ۔ڈاکٹرطلعت کا کہناتھا کہ سی پیک صرف پاکستان کی حد تک نہیں بلکہ چین کے گلوبل وژن کا حصہ بن گیا ہے جب چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا آغاز کیا تو اس پر بہت زیادہ تنقید کی گئی کہ پوری دنیا کس طرح سے ایک سڑک کے گرد گھوم سکتی ہے ۔ چین صرف دولت ہی جمع نہیں کررہا بلکہ اس کی توجہ ٹیکنالوجی اور مہارت پر بھی ہے ۔ چین ایک سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے اور وہ دنیا میں مشترکہ جیت کو تقویت دے رہا ہے ،چین پوری دنیا کے ممالک کو اکھٹا کرنا اور انکے مشترکہ مستقبل کیلئے کام کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ اپنے تجربات دنیا سے شیئر کر رہا ہے تا کہ ترقی پذیر ممالک اس سے استفادہ حاصل کریں ۔ ڈاکٹر طلعت شبیر نے مزید کہا کہ سی پیک کی کامیابی چین کیلئے بہت اہم ہے ،اگر سی پیک ناکام ہوتا ہے تو اس سے چین کوبہت نقصان ہوگا کیونکہ پہلے ہی دنیا میں اس پر الزامات لگ رہے ہیں کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدا م کو معاشی حربے کے طور پر استعما ل کرکے اصل میں سپر پاور بننے اور اپنا سیاسی اثر رسوخ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔